نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بھارتی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی (ایف ایس ایس اے آئی) سے کہا ہے کہ پیکٹ بند غذائی اشیا کے پیکٹ کے سامنے والے حصے پر غذائی وارننگ لیبل (ایف او پی ایل) لگانے کے نظام کو مرحلہ وار نافذ کرنے کی اپنی تجویز کے تحت ’تشویش والے غذائی اجزا‘، جیسے چکنائی، شکر اور نمک کے لیے مجوزہ وارننگ لیبل کے بارے میں مزید واضح معلومات فراہم کرے۔
فرنٹ آف پیکیج لیبلنگ (ایف او پی ایل) غذائی پیکیجنگ پر دی جانے والی غذائی معلومات کی ایک گرافک شکل ہے، جس سے صارفین کو غذائی اشیا خریدتے وقت باخبر فیصلہ کرنے اور صحت مند غذا کا انتخاب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے. ونود چندرن کی بنچ نے جمعرات کو مرکزی حکومت سے یہ بھی پوچھا کہ وہ اسکولوں میں غذائیت سے متعلق بیداری بڑھانے کے لیے کیا منصوبہ بنا رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ بچوں میں غیر صحت بخش کھانے پینے کی عادتیں پیدا ہونے کا سنگین خطرہ ہے۔
سپریم کورٹ کا یہ حکم جمعرات کی دیر رات اپ لوڈ کیا گیا۔ عدالت نے ایف ایس ایس اے آئی سے خاص طور پر یہ واضح کرنے کو کہا ہے کہ چکنائی، شکر اور نمک جیسے اجزا کے لیے وارننگ لیبل کس طرح تجویز کیے گئے ہیں اور انہیں مرحلہ وار نافذ کرنے کا طریقہ کیا ہوگا۔