کٹک: اڈیشہ ہائی کورٹ نے ریاست میں دو نائب وزرائے اعلیٰ کی تقرری کو چیلنج کرنے والی مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) جمعرات کو خارج کردی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کو دیگر وزرا کے مقابلے میں کوئی اضافی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔
چیف جسٹس ہریش ٹنڈن اور جسٹس چترنجن داس پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ بنچ نے کہا، ’’اس طرح موجودہ مفادِ عامہ کی عرضی خارج کی جاتی ہے۔‘‘ ایک وکیل نے یہ عرضی دائر کی تھی۔
عدالت نے عرضی گزار کو بے مقصد مفادِ عامہ کی عرضیاں دائر کرنے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ ایسی عرضیوں کے ذریعے ان محروم لوگوں سے متعلق حقیقی مسائل اٹھائے جانے چاہئیں، جن کے بنیادی یا آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ اڈیشہ کے ایڈووکیٹ جنرل پیتامبر آچاریہ نے دلیل دی کہ یہ مفادِ عامہ کی عرضی نہ صرف بے مقصد ہے بلکہ موضوع کی مناسب معلومات یا تحقیق کے بغیر دائر کی گئی ہے۔