نئی دہلی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مسلح افواج میں شامل ہونے والے نئے افسروں کو جدید جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب بڑی طاقتوں کو میدانِ جنگ میں پہلے جیسی برتری حاصل نہیں رہی، کیونکہ نسبتاً چھوٹی قوتیں بھی نئی حکمتِ عملی اور محدود مگر مؤثر ہتھیاروں کے ذریعے بھاری نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
راج ناتھ سنگھ نے ہفتے کے روز حیدرآباد کے قریب واقع ہندوستانی فضائیہ اکیڈمی میں مشترکہ گریجویشن پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں نے جنگ کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ بڑی طاقتوں کو میدانِ جنگ میں فیصلہ کن برتری حاصل ہوتی ہے، لیکن اب نسبتاً چھوٹی قوتیں بھی اپنے محدود مگر خطرناک ہتھیاروں اور نئی حکمتِ عملیوں کے ذریعے بڑا نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ میں یہ بات اس لیے کہہ رہا ہوں تاکہ آپ جنگ کی ہر شکل کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔‘‘
وزیر دفاع نے کہا کہ ماضی میں فوجی اور عسکری سازوسامان واضح طور پر نظر آتے تھے، لیکن آج کی جنگ میں ریڈار، سیٹلائٹ، ڈرون، سینسرز اور روبوٹکس جیسی جدید ٹیکنالوجیوں کا وسیع استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ایسے حالات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں مخالف فریق کے ٹرانسپورٹ نظام اور سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی اپنے کنٹرول میں لیا جا رہا ہے۔
راج ناتھ سنگھ کے مطابق جنگ کا تصور اور اس کی نوعیت بڑی حد تک تبدیل ہو چکی ہے، اس لیے نئے فوجی افسروں کو جدید جنگی طریقوں اور حکمتِ عملیوں کو سمجھنا ہوگا اور وقت کی ضرورت کے مطابق خود کو ان کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ انہوں نے سخت محنت کے ساتھ ساتھ سمارٹ انداز میں کام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں وہی ممالک آگے بڑھ رہے ہیں جو دانشمندی اور جدت کے ساتھ ترقی کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔