قومی تعلیمی پالیسی 2020 ملک کی ترقی کی نقیب بنے گی۔پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 09-01-2026
 قومی تعلیمی پالیسی 2020 ملک کی ترقی کی نقیب بنے گی۔پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد
قومی تعلیمی پالیسی 2020 ملک کی ترقی کی نقیب بنے گی۔پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد

 



لکھنؤ۔: قومی تعلیمی پالیسی 2020 ملک کی ترقی کی نقیب بنے گی۔تعلیم کے ساتھ اسکل ڈیولپمنٹ کا پروگرام بھی خاصی اہمیت رکھتا ہے۔ان خیالات کا اظہارمولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد نے یونی ورسٹی کے یوم تاسیس کے موقع پرلکھنؤ کیمپس میں منعقد سمپوزیم ”تعلیم کانیا تصور روایتی اقدار،لسانی تنوع،اور جدید رجحانات کا امتزاج“کے اختتامی اجلاس میں کیا۔سمپوزیم کا آغازکیمپس کے طالب علم طارق عالم نے قرآن پاک کی تلاوت سے کیا۔اس موقع پر تمام مقررین کا باقاعدہ خیرمقدم کیا گیا اور ان کی خدمت میں یادگاری نشان پیش کیے گئے۔ابتدا میں سمپوزیم کے کوارڈی نیٹر ڈاکٹر شاہ محمد فائز نے موضو ع کا تعارف کرایا اورپہلے اجلاس کی نظامت کا فریضہ بھی انجام دیا۔دوسرے اجلاس کی نظامت ڈاکٹر عمیر منظر نے انجام دی۔

پروفیسر ایس کے اشتیاق احمد نے یہ بھی کہاکہ قومی تعلیمی پالیسی میں مادری ز بان پر خاص زور دیا گیا ہے۔ سمپوزیم کے موضوع کو حسب حال بتاتے ہوئے اس طرح کے سنجیدہ موضو عات پر غور وفکر پر زور دیا تاکہ قومی تعلیمی پالیسی 2020کے نفاذ کی عملی راہیں آسان ہوتی چلی جائیں۔
کیمپس کی انچارج ڈ اکٹر ہمایعقوب نے کہا کہ خاص طورپر اس بات پر زور دیا کہ قومی تعلیمی 2020کو سب سے پہلے نفاذ کرنے والوں میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی ہے۔یہ حصو ل یابی ہمارے شیخ الجامعہ پروفیسر عین الحسن صاحب دور اندیش قیادت کا نتیجہ ہے۔مانو نے عورتوں کی تعلیم اور مادری زبان کو پہلے دن سے اہمیت دی ہے اور آج بھی اس کے لیے پرعزم ہے۔اس تناظر میں قومی تعلیمی پالیسی 2020کی اہمیت ہمارے نزدیک خاصی اہمیت کی حامل ہے۔
پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر او این اپادھیائے اپنی تقریر میں کہا کہ نوآبادیات کے ز مانے کے تعلیمی بندوبست میں ہندستانی معاشرہ کو اس کے ملکی تعلیمی وسائل سے مستفید نہیں ہونے دیاگیا۔انھوں نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی ہندستانی نظریے،ہندستانی فلسفہ اور ثقافتی اقدار کو تعلیم کے مرکز میں قائم کرنے کی کوشش ہے۔اس اجلاس کے دوسرے مقرر ڈاکٹر ثوبان سعید نے قومی تعلیمی پالیسی پہلے کے مقابلے میں زیادہ جامع اور ہمہ گیر ہے اور یہ عملی نقطہ نظر سے بھی کارآمد ہے لیکن اس کے نتائج کیا ہوں گے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔اس میں زبانوں،علاقائی زبانوں پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے۔اس کامقصدیہ ہے کہ طلبہ ہندستانی تہذیب اور ثقافت سے اچھی طرح واقف ہوسکیں۔پروفیسر ثوبان سعید نے سائنسی اور فنی کتابوں کو ترجمہ کے ذریعہ تیار کرنے کی عملی دشواریوں کا بھی ذکر کیا۔انھوں نے اساتذہ کی نئے طرز پر تربیت اور شارٹ ٹرم کورسز کی تیاری پر بھی زور دیا۔
دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر راکیش چندرا نے زبان کے مختلف مسائل اور اس کی اہمیت وافادیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگوکی اور کہا کہ ہندستان زبانوں کاگہوارہ ہے۔انھوں نے تاریخ،تہذیب،جنسی تفوق  اور دیگر تناظرمیں زبان کی اہمیت کو اجاگر کیا اورکہا کہ اسی سبب سے قومی تعلیمی پالیسی میں زبانوں کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔
ڈاکٹر خان احمد فاروق نے علمی روایت اور اردو زبان و ادب کے حوالے سے گفتگو کی اور کہا کہ اردو نے دیگر زبانوں خصو صاً سنسکرت سے خاص طورپر استفادہ کیا ہے اور یہ اس کی علمی روایت کا ایک روشن پہلو ہے۔پروفیسر مشیر حسین صدیقی نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی نے زبانوں کی اہمیت پربہت۔انھوں نے کہا کہ ہندستان عربی زبان وادب کا بھی گہوارہ رہا ہے اور یہاں اس کی نہایت روشن خدمات رہی ہیں۔سمپوزیم کے اختتام پر ڈاکٹر نور فاطمہ نے شکریے کے کلمات ادا کیے۔