چرچ کے اعتراض پر شراب کی دکان بند نہیں ہوگی

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 28-07-2026
چرچ کے اعتراض پر شراب کی دکان بند نہیں ہوگی
چرچ کے اعتراض پر شراب کی دکان بند نہیں ہوگی

 



شیلانگ: میگھالیہ ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ چرچ کے عہدیداروں اور مقامی لوگوں کے اخلاقی اعتراضات کی بنیاد پر ریاستی ایکسائز قوانین کے مطابق قانونی لائسنس یافتہ شراب کی دکان کو بند نہیں کرایا جا سکتا۔ ایک شراب کی دکان کی مالکہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس ایچ ایس تھانگ کیو نے حکام کو ہدایت دی کہ مغربی گارو ہلز ضلع کے ڈناکگری علاقے میں انڈین میڈ فارن لیکر (آئی ایم ایف ایل) کی خوردہ دکان چلانے کی اجازت دی جائے۔

ہائی کورٹ نے پیر کو جاری اپنے حکم میں کہا کہ دکان کی مالکہ نے جینگجل مارکیٹ سے دکان منتقل کرنے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے تھے۔ درخواست گزار نے مقامی نوکما (گاؤں کے سربراہ) سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) حاصل کر لیا تھا، جنوری 2025 میں ایکسائز محکمہ سے دکان منتقل کرنے کی اجازت بھی لے لی تھی اور اس کے پاس درست لائسنس بھی موجود تھا۔

تاہم خاتون نے اپنی درخواست میں الزام لگایا کہ مقامی چرچ کے عہدیداروں اور ترقیاتی کمیٹی کے ارکان کے اعتراضات کے بعد ایکسائز سپرنٹنڈنٹ نے انہیں دکان بند کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ حکام کی جانچ میں میگھالیہ ایکسائز ایکٹ اور قواعد کی کسی خلاف ورزی کا پتہ نہیں چلا۔

مزید یہ بھی ثابت ہوا کہ یہ دکان عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور اسپتالوں سے مقررہ 200 میٹر کے فاصلے سے زیادہ دور واقع ہے۔ یک رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دکان بند کرانے اور لائسنس منسوخ کرنے کے لیے دائر کیے گئے اعتراضات قانونی یا کسی مضبوط بنیاد پر نہیں بلکہ صرف اخلاقی بنیادوں پر مبنی تھے۔