نئی دہلی: سپریم کورٹ نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، جس میں عدالتی فیس ادا نہ کرنے کی بنیاد پر وقف سے متعلق مقدمات کو مسترد کیے جانے کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا تھا۔
گجرات ہائی کورٹ نے رواں سال جنوری میں یہ فیصلہ دسمبر 2025 کے اپنے ایک فیصلے کی بنیاد پر دیا تھا۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ وقف اداروں کو ریاستی وقف ٹریبونل کے سامنے مقدمات دائر کرتے وقت عدالتی فیس ادا کرنے سے استثنا حاصل نہیں ہے۔ احمد آباد سنی مسلم وقف کمیٹی کی جانب سے دائر عرضی پر سپریم کورٹ کے جسٹس منوج مشرا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔
بنچ نے 7 اگست کو جاری اپنے حکم میں کہا، ’’نوٹس جاری کیا جائے، جس کا جواب چھ ہفتوں میں دینا ہوگا۔‘‘ کمیٹی نے اپنے وکیل اعجاز مقبول کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ اس بات کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے میں ناکام رہی کہ وقف ایکٹ یا اس کے تحت بنائے گئے قواعد میں عدالتی فیس کی ادائیگی کی کوئی شرط موجود نہیں ہے۔
عرضی میں کہا گیا، ’’لہٰذا یہ واضح ہے کہ ایکٹ اور قواعد دونوں ہی عدالتی فیس کی ادائیگی کو صراحتاً خارج کرتے ہیں۔‘‘ 17 دسمبر 2025 کو گجرات ہائی کورٹ نے وقف اداروں کی جانب سے دائر متعدد عرضیاں خارج کر دی تھیں۔ ان عرضیوں میں گجرات اسٹیٹ وقف ٹریبونل کے ان احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا، جن کے تحت وقف املاک سے متعلق تنازعات میں ناکافی عدالتی فیس ادا کیے جانے کی وجہ سے کارروائی شروع کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ وقف ایکٹ کی دفعہ 83 کے تحت گجرات اسٹیٹ وقف ٹریبونل میں دائر کی جانے والی کارروائی کے لیے وقف اداروں کو عدالتی فیس کی ادائیگی سے کوئی عمومی استثنا یا چھوٹ حاصل نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا تھا کہ عدالتی فیس ادا کرنا ضروری نہیں، کیونکہ دفعہ 83 کے تحت کارروائی دعویٰ یا مقدمہ دائر کرنے کے بجائے ایک درخواست کے ذریعے شروع کی جاتی ہے۔
عدالت نے کہا تھا کہ ایسی کارروائیوں میں وقف املاک سے متعلق حقوق کا فیصلہ کیا جاتا ہے، جن میں مکان مالک اور کرایہ دار کے تنازعات بھی شامل ہیں۔ اس طرح کی کارروائی میں تحریری بیانات، مقدمے کے نکات کا تعین، شواہد پیش کرنا اور حتمی فیصلہ جیسے مراحل شامل ہوتے ہیں، جو بنیادی طور پر دیوانی مقدمات کی طرز پر ہی انجام پاتے ہیں۔