اردو اکادمی، دہلی کا شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ’’سْر سنگم‘‘ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 31-03-2026
اردو اکادمی، دہلی کا شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ’’سْر سنگم‘‘ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر
اردو اکادمی، دہلی کا شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ’’سْر سنگم‘‘ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

 



آواز دی وائس /نئی دہلی 

اردو اکادمی دہلی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے شاندار سہ روزہ ادبی و ثقافتی پروگرام ’’سر سنگم‘‘ کے تیسرے اور آخری دن نے اپنی بھرپور عوامی شرکت کے ساتھ اس تقریب کو ایک یادگار اختتام عطا کیا۔ دہلی کے بدلتے موسم اور ہلکی بارش کے باوجود شائقین کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا واضح ثبوت رہی کہ اردو زبان و ادب کے لیے عوامی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

مشاعرہ: روایت اور جدت کا حسین امتزاج

تیسرے دن کا آغاز ایک شاندار مشاعرے سے ہوا جس کی نظامت معروف شاعر شکیل جمالی نے نہایت دلکش انداز میں انجام دی۔ مشاعرے میں سینئر اور تجربہ کار شعرا کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے نمائندہ شعرا نے بھی شرکت کی، جس نے روایت اور جدت کا خوبصورت سنگم پیش کیا۔

اہم شعرا میں راشدہ باقی حیا، اقبال فردوسی، امیر امروہوی اور قاصر سہسوانی شامل تھے، جبکہ نئی نسل کی نمائندگی سلیم کاشف، فروغ احسن، شاکر دہلوی، خوشبو سکسینہ اور حبیب الرحمٰن نے کی۔ شعرا کے منتخب اشعار نے سامعین کو خوب محظوظ کیا اور داد و تحسین کی گونج دیر تک فضا میں سنائی دیتی رہی۔

 مشاعرے میں شکیل جمالی، راشدہ باقی حیا، اقبال فردوسی، امیر امروہوی اور قاصر سہسوانی جیسے سینئر شعرا کے ساتھ ساتھ سلیم کاشف، فروغ احسن، شاکر دہلوی، خوشبو سکسینہ اور حبیب الرحمٰن جیسے نئی نسل کے نمائندہ شعرا نے بھی اپنے کلام سے سامعین سے بھرپور داد حاصل کی۔ مشاعرے میں پیش کیے گئے اشعار میں سے چند منتخب اشعار ملاحظہ کیجیے:

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں

عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں

شکیل جمالی

یہ جہاں گر کبھی انعامِ وفا دے مجھ کو

یہ بھی ممکن ہے کہ سولی پہ چڑھا دے مجھ کو

راشدہ باقی حیا

جب مجھے دردِ کمر یاد آیا

ان کی مالش کا ہنر یاد آیا

اقبال فردوسی

سو گیا حسن کی آغوش میں سر رکھ کے کوئی

اور کوئی خاک اڑاتا پھرا صحرا صحرا

امیر امروہوی

میں نے یہ سوچ کے لہجہ نہیں بدلا اپنا

زندہ رہنا تھا مجھے اپنے ہی کردار کے ساتھ

سلیم کاشف

سانس لے لو بیٹھ جاؤ سوچ معیاری رکھو

وقت کروٹ لے رہا ہے اپنی تیاری رکھو

فروغ احسن

تم سے ٹکرائے تو ہوا معلوم

حادثے خوش نما بھی ہوتے ہیں

شاکر دہلوی

دروازے بن جاتے ہیں دیواروں میں

دروازہ دیوار اگر ہو جائے تو

خوشبو سکسینہ

اب میری باری آئے گی میں صبر والا ہوں

تیری طرف سے وار تو بھرپور ہو گیا

قاصر سہسوانی

دل یہ کہتا ہے کہ اک روز پلٹ آئیں گے

اپنی یادوں کے چراغوں کو جلائے ہوئے لوگ

حبیب الرحمٰن

مشاعرے کے اختتام پر محکمۂ فن، ثقافت اور السنہ، حکومتِ دہلی کے ایڈیشنل سکریٹری اور اردو اکادمی، دہلی کے سکریٹری لیکھ راج نے تمام شعرا کا استقبال کرتے ہوئے انھیں پودے پیش کیے

اردو اکادمی کی خدمات کا اعتراف

اپنے خطاب میں شکیل جمالی نے اردو اکادمی دہلی کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ نہ صرف ملک بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے بلکہ سینئر اور نوجوان فنکاروں کو یکساں مواقع فراہم کر کے زبان و ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

’’غزلوں کی سرگوشی‘‘: موسیقی کی دلنشیں شام

مشاعرے کے بعد ’’غزلوں کی سرگوشی‘‘ کے عنوان سے ایک خوبصورت موسیقی پروگرام منعقد ہوا جس میں عامر خان نے اپنی سریلی آواز سے محفل کو مسحور کر دیا۔ ہلکی بارش کے باوجود سامعین کی دلچسپی میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ محفل مزید پرجوش ہوتی گئی۔

صوفیانہ قوالی: روحانیت سے لبریز اختتام

پروگرام کے آخری مرحلے میں حیدر نظامی، حسن نظامی اور عمران نظامی کی قیادت میں قوالوں کی ٹیم نے صوفیانہ قوالیوں سے محفل میں ایک روحانی کیفیت پیدا کر دی۔ ان کی پیشکش نے حاضرین کو وجد میں لا کر پروگرام کو ایک یادگار انجام تک پہنچایا۔

انتظام و انصرام اور اظہارِ تشکر

پروگرام کی نظامت اطہر سعید نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی، جنہوں نے بارش کے باوجود سامعین کو محفل سے جڑے رکھا۔ اختتام پر اردو اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے تمام مہمانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

book

اس موقع پر حکومتِ دہلی کے وزیر کپل مشرا کے تعاون اور سرپرستی کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جن کی رہنمائی سے ایسے بامقصد ادبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد ممکن ہو سکا۔یہ پروگرام اس حقیقت کا روشن مظہر تھا کہ اردو ادب اور ثقافت آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے اور ایسے اقدامات اس کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔