نئی دہلی: ملک میں اُڑتی ہوئی بسوں کا خواب اب حقیقت بننے کے قریب ہے۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت عوامی ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر بدلنے کی سمت میں کئی انقلابی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن میں ہوا میں چلنے والی بسیں، فلیش چارجنگ الیکٹرک بسیں اور پہاڑی ریاستوں کے لیے ڈبل ڈیکر اُڑن بسیں شامل ہیں۔
گڈکری نے بتایا کہ دہلی کے دھولا کوئن سے مانیسّر تک پونڈ وے سسٹم پر مبنی ہوا میں چلنے والی بس سروس کی منصوبہ بندی تقریباً آخری مراحل میں ہے۔ اس خاص روٹ پر مسلسل ٹریفک جام کی مسئلہ سے نجات دلانے کے لیے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم عوامی ٹرانسپورٹ کو آسان اور ٹریفک سے آزاد بنانا چاہتے ہیں۔
اُترکھنڈ اور کشمیر جیسے پہاڑی علاقوں کے لیے بھی ایک ڈبل ڈیکر بس سسٹم پر کام جاری ہے، جو ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ کو ہوا میں جوڑے گا۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان علاقوں میں مؤثر ثابت ہوگا جہاں روایتی سڑکوں کی تعمیر مشکل اور مہنگی ہے۔ گڈکری نے بتایا کہ بھارت میں پہلی بار ایک ایسی فلیش چارجنگ الیکٹرک بس لانچ کی جا رہی ہے جس میں 135 سیٹیں، ایگزیکٹو کلاس، فرنٹ ٹی وی اسکرین اور ایئر ہوسٹس کی طرز پر بس ہوسٹس ہوں گے۔
اس بس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی اور یہ ہر 40 کلومیٹر کے بعد رکے گی، جہاں صرف 30 سیکنڈ میں مکمل چارج ہو کر دوبارہ روانہ ہو جائے گی۔ یہ فلیش چارجنگ ٹیکنالوجی ٹاٹا اور انی کمپنیوں کے ذریعے تیار کی جا رہی ہے اور پہلا منصوبہ ناگپور میں شروع کیا جائے گا۔ اس بس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں لیتھیم آئن بیٹری کم استعمال ہوگی، جس سے لاگت بھی کم ہوگی۔
گڈکری کے مطابق اس نئی بس سروس کا کرایہ روایتی ڈیزل بسوں سے 30فیصدتک سستا ہوگا۔ ابتدا میں ناگپور میں ٹرائل کے بعد یہ سروس دہلی-جے پور، دہلی-دہرادون، دہلی-چنڈی گڑھ، بنگلور-چنئی، ممبئی-ناسک اور ممبئی-پونے جیسے بڑے روٹس پر متعارف کرائی جائے گی۔ یہ منصوبے نہ صرف عوامی ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے کی سمت میں اہم قدم ہیں بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کی بچت کے لیے بھی مفید ثابت ہوں گے۔