چنار بک فیسٹیول کا اختتام: لکھنؤ اور علی گڑھ کی تہذیبی دنیا نے میرے فلمی سفر کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا: مظفر علی

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 27-07-2026
 چنار بک فیسٹیول کا اختتام: لکھنؤ اور علی گڑھ کی تہذیبی دنیا نے  میرے فلمی سفر کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا: مظفر علی
چنار بک فیسٹیول کا اختتام: لکھنؤ اور علی گڑھ کی تہذیبی دنیا نے میرے فلمی سفر کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا: مظفر علی

 



 سری نگر/نئی دہلی: علی گڑھ کی تہذیب، ماحول اور شاعری نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا۔ وہ تہذیبی دنیا بھی میرے ذہن میں تھی جو میں لکھنؤ اور علی گڑھ میں چھوڑ آیا تھا۔ اس طرح دونوں مناظر کے تصورات نے میری پہلی فلم کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ان خیالات کا اظہار ممتاز فلم ساز، مصور، ثقافتی احیا کے علم بردار اور پدم شری سے سرفراز مظفر علی نے کیا۔

وہ چنار بک فیسٹیول کے تحت ’ہندوستانی سنیما: اردو اور تہذیبی اقدار کا خزانہ‘ کے عنوان سے منعقدہ علمی و ادبی مذاکرے سے خطاب کررہے تھے۔ مذاکرے میں مظفر علی نے بحیثیت پینلسٹ شرکت کی، جبکہ معروف ڈرامہ نگار، ہدایت کار اور قومی اعزاز یافتہ ادیب پروفیسر دانش اقبال نے مذاکرے کی نظامت کی۔

 چنار بک فیسٹیول کا تیسرا ایڈیشن نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا، قومی اردو کونسل اور ضلع انتظامیہ، سری نگر کے باہمی اشتراک سے 18 جولائی 2026 تا 26 جولائی 2026 ایس کے آئی سی سی میں منعقد ہوا-

مذاکرے کے آغاز میں موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر دانش اقبال نے کہا کہ فلموں اور تہذیب کا اردو زبان کے ساتھ چولی دامن کا رشتہ ہے۔ بولتی فلموں کے دور سے پہلے خاموش فلموں میں بھی اردو زبان نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے لکھنوی تہذیب سمیت ہندوستان کی مختلف تہذیبی روایتوں اور موضوع کے دیگر اہم پہلوؤں کو سوالات اور گفتگو کے ذریعے نہایت بامعنی اور فکر انگیز انداز میں پیش کیا۔پروفیسر دانش اقبال نے اردو زبان کی تہذیبی اہمیت، ہندوستانی سنیما میں اردو کے ارتقائی سفر، ادبی تخلیقات کی فلمی تشکیل اور معاصر فلم سازی میں تہذیبی و ثقافتی اقدار کے تحفظ سے متعلق مظفر علی سے متعدد اہم سوالات کیے۔

ان سوالات کے جواب میں مظفر علی نے ہندوستانی سنیما میں اردو زبان، تہذیبی روایت، ادبی جمالیات، موسیقی، شاعری اور ہندوستان کے مشترکہ ثقافتی ورثے کے کردار پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا اور اپنے فلمی سفر کے مختلف مراحل اور تجربات بھی سامعین کے ساتھ شیئر کیے۔

اپنی پہلی فلم کے محرکات پر روشنی ڈالتے ہوئے مظفر علی نے کہا کہ گاؤں سے شہر کی طرف ہجرت کرنے والے عام لوگوں کا کرب، ان کی زندگی کی مشکلات اور ایک نئی دنیا کے آباد ہونے کے مناظر نے انہیں پہلی فلم بنانے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے تخلیقی سفر میں انسانی زندگی، سماجی تبدیلی اور تہذیبی ماحول ہمیشہ اہمیت رکھتے رہے ہیں۔

اردو زبان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مظفر علی نے کہا کہ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، شائستگی، حسنِ اظہار اور فکری روایت کی نمائندہ زبان ہے، جس نے ہندوستانی سنیما کی تشکیل اور ارتقا میں گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔ انہوں نے اپنی معروف فلموں ’گمن‘، ’امراؤ جان‘ اور ’انجمن‘ سمیت دیگر فلمی کاوشوں کے تخلیقی سفر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادب، موسیقی، مصوری اور سنیما جب ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہیں تو ایسی ثقافتی دستاویز وجود میں آتی ہے جو نسلوں تک اپنی معنویت برقرار رکھتی ہے۔

مظفر علی نے کشمیر کی تہذیب اور اس سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہذیب ایک ایسا بامعنی لفظ ہے جو انسان کو منزل کی کامیابیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب تک ہمیں دوسروں کی تہذیب کا احترام اور اس کا احساس نہیں ہوگا، اس وقت تک تہذیبی اقدار کی حقیقی تصویر سامنے نہیں آسکتی۔ انہوں نے نئی نسل کو مشورہ دیا کہ وہ تہذیب کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرے، کیونکہ تہذیب کے گہرے شعور سے زندگی کے خوبصورت نقش اور اس کی معنویت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

فنونِ لطیفہ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے نئی نسل کو فنون کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم کرنے اور بچوں کو ہر عہد میں فنون کی اہمیت سمجھنے اور انہیں اپنانے کی ترغیب دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کشمیر کو ’گلوبل ایستھیٹک‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا فن اتنا لازوال ہے کہ پوری دنیا اس کی عاشق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر کی جمالیات کو وسیع پیمانے پر دنیا کے سامنے پیش کرنا ان کی دلی خواہش ہے۔

اس سے قبل قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے مظفر علی اور پروفیسر دانش اقبال کی علمی، ادبی، فلمی اور ثقافتی خدمات اور ان کے نمایاں کارناموں پر اجمالی گفتگو کی۔

مذاکرے کے دوران مظفر علی سے ہندوستانی سنیما میں اردو کے مستقبل، ادبی تخلیقات کو فلمی قالب میں ڈھالنے کے امکانات، نئی نسل میں تہذیبی شعور کی آبیاری اور ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق بھی متعدد اہم سوالات کیے گئے۔ انہوں نے ان سوالات کے مدلل اور فکر انگیز جوابات دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اردو ادب اور ہندوستانی تہذیب سنیما کی روح ہیں اور ان کے فروغ کے لیے ادبی، ثقافتی اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔مذاکرے کے اختتام پر موجود ادیبوں، دانشوروں، فلمی شخصیات، طلبہ اور ادب دوست سامعین نے پروگرام میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور موضوع کے مختلف اہم پہلوؤں سے متعلق سوالات بھی کیے، جن کے مظفر علی نے تسلی بخش جوابات دیے۔

چنار بک فیسٹیول کا اختتام

چنار بک فیسٹیول 2026 کتابوں کی خریداری کے لحاظ سے بھی بہت کامیاب ثابت ہوا۔ اس بار ملک بھر سے 106 اردو پبلشرز نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر 75 لاکھ سے زائدکی اردو کتابیں فروخت ہوئیں۔جب کہ دوسرے ایڈیشن 2025 میں 60 پبلشرز شریک ہوئے تھے جن کی مجموعی خریداری 48 لاکھ روپے کی رہی تھی۔مجموعی طور پر جو بات نکل کر سامنے آتی ہے اس کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ چنار بک فیسٹیول 2026 پہلے دو ایڈیشن کے مقابلے میں زیادہ بہتر ، منظّم اور کامیاب رہا

2026 چنار بک فیسٹیول میں ملک بھر سے تقریباً 200 ناشرین، 250 سے زائد بک اسٹالز اور 800 سے زیادہ ادیب، شاعر، فنکار، دانشور اور مفکرین نے شرکت کی۔چنار بک فیسٹیول میں قومی اردو کونسل کی جانب سے مختلف موضوعات پر 10ادبی،تہذیبی اور ثقافتی تقاریب منعقد کی گئیں جن میں کشمیر کے علاوہ ہندوستان کے دیگر علاقو ں سے تقریباً 50 ماہرین شریک ہوئے اور اپنی قیمتی آرا سے سامعین کو روشناس کرایا

اس بک فیسٹیول کی کامیابی کا سب سے روشن پہلو طلبہ ، نوجوان اور عام قارئین کی غیر معمولی شرکت رہی۔ خراب موسم اور مسلسل بارش کے باوجود لوگوں کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔ کتابوں کے اسٹالز پر قارئین کی مسلسل آمد، مصنفین سے ملاقات کا شوق، علمی نشستوں میں بھرپور شرکت اور کلچرل اسٹیج و آتھرز کارنر میں سامعین کی کثیر تعداد اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ کشمیر کی سرزمین میں کتاب اور علم سے محبت آج بھی زندہ ہے

چنار بک فیسٹیول 2026 اپنے اختتام کے ساتھ ایک ایسا روشن پیغام چھوڑ گیا کہ اگر نوجوان نسل کو کتاب، علم اور مثبت فکر سے جوڑنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں کی جائیں تو معاشرے میں فکری بیداری، تہذیبی شعور اور تعمیری سوچ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ فیسٹیول صرف ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ علم، تہذیب، مکالمے اور انسانی اقدار کے فروغ کی ایک مؤثر تحریک ثابت ہوا، جس کے اثرات مستقبل میں بھی وادیٔ کشمیر کی علمی و ثقافتی زندگی میں نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے

وادیٔ کشمیر کی علمی، ادبی اور تہذیبی روایت کو نئی توانائی عطا کرنے کے مقصد سے منعقد ہونے والا یہ نو روزہ بُک فیسٹیول محض ایک کتاب میلہ نہیں بلکہ علم، ادب، مکالمے، ثقافت اور تخلیقی اظہار کا ایک جامع پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ فیسٹیول کے دوران کتابوں کی نمائش اور فروخت کے ساتھ ساتھ مختلف علمی مذاکرے، ادبی نشستیں، مصنفین سے ملاقات، شعری محفلیں، ثقافتی پروگرام، صوفیانہ موسیقی، بچوں کی سرگرمیاں اور فکری مباحث منعقد کیے گئے تاکہ کتاب اور قاری کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

چنار بک فیسٹیول کا بنیادی مقصد نئی نسل کے اندر مطالعے کا ذوق پیدا کرنا، انھیں مثبت اور تعمیری فکر کی طرف راغب کرنا اور کتابوں کے ذریعے ایک باشعور، ذمہ دار اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں مثبت کردار ادا کرنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف شعبہ ہائے علم سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیبوں اور دانشوروں نے قارئین کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کی گفتگو نے نوجوان نسل کو نہ صرف کتابوں کی اہمیت سے آگاہ کیا بلکہ انہیں مطالعے کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانے کی ترغیب بھی دی