نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف 28 جون سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو فوری طور پر صفدرجنگ اسپتال سے گروگرام کے میدانتا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل بنچ نے یہ حکم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو کی اپیل پر جاری کیا، جس میں سنگل بنچ کے اتوار کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سنگل بنچ نے صفدرجنگ اسپتال میں وانگچک کے جاری علاج میں مداخلت سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے میدانتا اسپتال کے ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ وانگچک کی مسلسل دیکھ بھال کے لیے متعلقہ ماہرین پر مشتمل طبی ٹیم تشکیل دی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ علاج منظور شدہ طبی معیارات اور طے شدہ پروٹوکول کے مطابق ہوگا اور وانگچک کو بھی اس علاج اور طبی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا۔
عدالت نے کہا کہ وانگچک کو ان کی پسند کے اسپتال، یعنی میدانتا منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 21 کے تحت حاصل ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ گیتانجلی آنگمو کو اپنی مرضی کے مطابق کسی بھی وقت وانگچک سے ملاقات کی اجازت ہوگی۔
مقدمے کا نمٹارا کرتے ہوئے بنچ نے کہا، "ہمارا تعلق صرف وانگچک کے بنیادی حقوق سے ہے، اس کے علاوہ دیگر معاملات سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔" سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشور مہتا نے کہا کہ وانگچک کو میدانتا اسپتال منتقل کیے جانے پر مرکزی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وانگچک طبی مشورے کے بغیر اسپتال سے چھٹی کا مطالبہ نہ کریں۔ مہتا نے کہا، "میدانتا ایک معتبر اسپتال ہے، اگر انہیں وہاں منتقل کیا جاتا ہے تو حکومت کو کوئی اعتراض نہیں۔"
سماعت کے دوران عدالت نے صفدرجنگ اسپتال میں وانگچک کے علاج کی نگرانی کرنے والے ایمس کے ڈاکٹروں اور ان کے نجی معالج سے بھی بات چیت کی۔ عدالت نے پایا کہ دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ وانگچک کو مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔
اپیل میں گیتانجلی آنگمو نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سنگل بنچ کا حکم وانگچک کو بغیر کسی گرفتاری کے غیر قانونی طور پر صفدرجنگ اسپتال میں رہنے پر مجبور کرتا ہے اور ان کے علاج سے متعلق فیصلے کا حق ان سے اور ان کی اہلیہ سے چھین لیتا ہے۔ یاد رہے کہ دہلی پولیس نے ہفتے کے روز بھوک ہڑتال کے 21ویں دن وانگچک کو جنتَر منتَر سے زبردستی صفدرجنگ اسپتال منتقل کیا تھا، جس کے اگلے روز ان کی اہلیہ نے فوری سماعت کی درخواست کے ساتھ عدالت سے رجوع کیا تھا۔