ملک پارلیمنٹ میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت ایک تاریخی قدم اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار ہے: مودی
نئی دہلی
نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ان کی حکومت پارلیمنٹ کے تین روزہ خصوصی اجلاس میں خواتین کے بااختیار بنانے کے لیے مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ان کا یہ بیان خصوصی اجلاس شروع ہونے سے پہلے سامنے آیا، جس میں ‘ناری شکتی وندن ایکٹ’ (خواتین ریزرویشن قانون) میں ترمیم کر کے اسے 2029 سے نافذ کرنے کی سمت میں قدم اٹھایا جائے گا۔
مودی نے ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آج سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ہمارا ملک خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھانے جا رہا ہے۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کا احترام، قوم کا احترام ہے، اور اسی جذبے کے ساتھ ہم اس سمت میں پختہ عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
آئینی ترمیمی بل کے مطابق، 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے خواتین ریزرویشن قانون کو نافذ کرنے کے لیے حلقہ بندی (حد بندی) کے عمل کے بعد لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد موجودہ 543 سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کی جائے گی۔ یہ حلقہ بندی آخری شائع شدہ مردم شماری کی بنیاد پر کی جائے گی۔
اس کے علاوہ، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی اسمبلیوں میں بھی خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کو یقینی بنانے کے لیے نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔لوک سبھا اراکین کو فراہم کیے گئے بل میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے مختص نشستیں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مختلف حلقوں میں ‘روٹیشن’ (باری باری) کی بنیاد پر مختص کی جائیں گی۔