حیدرآباد: تلنگانہ کے ضلع راجنہ سرسیلا کے ویمولاواڑہ میں واقع شری راجا راجیشور سوامی مندر کی تزئین و آرائش کے دوران مندر احاطے میں قائم تقریباً 800 سال قدیم درگاہ حضرت سید تاج الدین خواجہ باغ سوار درگاہ کو ہٹانے کے معاملے نے اب عدالتی رخ اختیار کر لیا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے 26 فروری 2026 کو اس درگاہ کو ہٹانے، منتقل کرنے یا کسی بھی قسم کی تبدیلی پر عبوری روک لگا دی ہے اور متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔
جسٹس بی وجے سین ریڈی نے یہ حکم محمد ناظم کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا، جس میں درگاہ کے اطراف کی گئی مبینہ غیر قانونی باڑ بندی اور رکاوٹوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئندہ احکامات تک کسی قسم کا انہدام، منتقلی یا ساختی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
یہ درگاہ 12ویں صدی کی تاریخی یادگار ہے اور آٹھ سو برس سے زائد عرصے سے مندر کے احاطے کے ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت کے طور پر قائم ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ نے اکتوبر 2025 میں ہی ضلع کلکٹر کو خط لکھ کر واضح کیا تھا کہ درگاہ کی موجودہ حالت میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جائے اور منتقلی کی کسی تجویز پر غور نہ کیا جائے۔
وقف بورڈ نے یہ بھی دوہرایا کہ یہ درگاہ ایک باقاعدہ نوٹیفائیڈ وقف ادارہ ہے، جو جنوری 1990 کے گزٹ نوٹیفکیشن میں درج ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی فیصلے کا اختیار صرف بورڈ کے پاس ہے، نہ کہ مقامی متولی یا ترقیاتی کمیٹی کے پاس۔ 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے مندر دورے کے بعد درگاہ کو لے کر سوالات اٹھنے لگے۔ 2025 کے اوائل میں کارکن رویندر گوڑ نے "درگاہ ہٹاؤ، ویمولاواڑہ بچاؤ" مہم شروع کی، جس کے تحت ہزاروں پمفلٹ مندر کی ہنڈی میں ڈالے گئے۔ 15 اکتوبر 2025 کو ریاستی حکومت نے درگاہ کو مندر احاطے سے باہر منتقل کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد سے مندر تزئین و آرائش کے لیے بند ہے۔
موومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس (ایم پی جے) نے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات کر کے مطالبہ کیا کہ درگاہ کو مندر احاطے کے اندر ہی دوبارہ تعمیر کیا جائے اور خبردار کیا کہ مناسب کارروائی نہ ہونے کی صورت میں امن و امان متاثر ہو سکتا ہے۔ فی الحال تلنگانہ ہائی کورٹ کا عبوری حکم نافذ العمل ہے اور آئندہ سماعت مقرر ہے۔ یہ تنازع صرف ایک درگاہ اور ایک مندر کا نہیں بلکہ صدیوں پرانی مشترکہ وراثت، قانونی حقوق اور انتظامی جوابدہی کا معاملہ ہے، جس کا فیصلہ اب عدالت کے ہاتھ میں ہے۔