نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) نے بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین کے مدارس سے متعلق حالیہ بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور غیر ملکی پناہ گزینوں کو ہندوستان کے داخلی اور مذہبی معاملات میں مداخلت سے روکے۔ تسلیمہ نسرین نے گزشتہ اتوار کو کہا تھا کہ مدارس کا وجود نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ بعض مدارس میں "جہادی" تیار کیے جاتے ہیں اور وہاں بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے ایک بیان میں کہا کہ مدارس پر دہشت گردی کو فروغ دینے یا "جہادی" تیار کرنے کا الزام بے بنیاد، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے الزامات نہ صرف ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ الیاس نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ ہندوستان میں پناہ لینے والی ایک غیر ملکی شہری ملک کے مذہبی، آئینی اور سماجی معاملات پر اشتعال انگیز بیانات دے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر کسی کو بھی مذہبی اداروں کو بدنام کرنے، نفرت پھیلانے یا ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈا کوئی نئی بات نہیں ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے اس نوعیت کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، لیکن آج تک ان کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی تحقیقاتی یا سکیورٹی ایجنسی نے ان کی تصدیق کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ملک بھر کے ہزاروں مدارس لاکھوں بچوں کو سرکاری خزانے پر کوئی بوجھ ڈالے بغیر تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ ایسے اداروں کو بدنام کرنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ ملک کی تعلیمی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔