سویندو ادھیکاری نے بھوانی پور میں ممتا بنرجی کی موجودگی پر سوال کیا

Story by  ATV | Posted by  Aamnah Farooque | Date 29-04-2026
سویندو ادھیکاری نے بھوانی پور میں ممتا بنرجی کی موجودگی پر سوال کیا
سویندو ادھیکاری نے بھوانی پور میں ممتا بنرجی کی موجودگی پر سوال کیا

 



کولکتہ
مغربی بنگال کے قائد حزب اختلاف شوبھندو ادھیکاری نے بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی موجودگی پر سوال اٹھایا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ادھیکاری نے بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کی مؤثریت پر زور دیتے ہوئے پوچھا، "ممتا بنرجی یہاں کیوں گھوم رہی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہاں دفعہ 163 نافذ ہے، پھر بھی ممتا بنرجی کئی لوگوں کے ساتھ گھوم رہی ہیں۔ وہ یہاں کیوں موجود ہیں؟
ادھیکاری نے مزید بھوانی پور سے اپنی جیت کا یقین ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ممتا بنرجی اس سیٹ سے "پہلے ہی ہار چکی ہیں"۔ممتا بنرجی، جو گزشتہ 15 برسوں سے بھوانی پور اسمبلی سیٹ پر قابض ہیں، اس بار بھارتیہ جنتا پارٹی کے شوبھندو ادھیکاری سے سخت مقابلے کا سامنا کر رہی ہیں۔ ادھیکاری اس سے قبل 2021 کے انتخابات میں نندیگرام میں انہیں شکست دے چکے ہیں۔ اس سے پہلے دن میں ممتا بنرجی نے بی جے پی پر "زبردستی انتخابی دھاندلی" کی کوشش کا الزام لگایا، جب کہ ریاستی اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ جاری تھی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کے خلاف تشدد اور ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی الزام عائد کیا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ دیکھیے رات میں ہمارے کارکن کو کس طرح پیٹا گیا۔ اس ظلم کو دیکھیے۔ یہ کیسی غنڈہ گردی ہے؟ ووٹنگ اس طرح نہیں ہوتی، ووٹنگ پرامن طریقے سے ہوتی ہے۔ یہ جمہوریت کا تہوار ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "لیکن انہوں نے اسے مکمل طور پر برباد کر دیا ہے۔ ان کا ارادہ صاف ہے کہ بی جے پی زبردستی انتخابات میں دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔ ہمارے کارکن اور عوام جان دینے کو تیار ہیں، لیکن وہ یہ جگہ نہیں چھوڑیں گے۔
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کا دوسرا اور آخری مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے، جس سے قبل اہم حلقوں میں سخت موک پول (پریکٹس ووٹنگ) کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس آخری مرحلے کا دائرہ بہت وسیع ہے، جس میں ریاست کی کل 294 اسمبلی نشستوں میں سے تقریباً نصف یعنی 142 نشستیں شامل ہیں۔
ریاست میں کل ووٹرز کی تعداد تقریباً 3.21 کروڑ ہے (مرد: 1,64,35,627، خواتین: 1,57,37,418 اور تیسری جنس: 792)۔ 41,001 پولنگ اسٹیشنز پر 1,448 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں 220 خواتین شامل ہیں، جبکہ 8,000 سے زائد پولنگ اسٹیشنز مکمل طور پر خواتین کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ریاست میں انتخابی سمت طے کرنے کے لیے دوسرا مرحلہ نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے، جس میں بنگال کے 142 حلقوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ حکام نے تمام علاقوں میں شفاف اور پرامن ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے وسیع انتظامات کیے ہیں۔
پہلے مرحلے میں ریکارڈ توڑ ووٹنگ کے بعد، مغربی بنگال آج دوسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس مرحلے کو حکمراں ترنمول کانگریس کے لیے "امتحان" قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ووٹنگ اب پارٹی کے روایتی مضبوط علاقوں، یعنی جنوبی بنگال اور کولکتہ، کی طرف بڑھ رہی ہے۔