نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ایک جائیداد کو منہدم کیے جانے کے خلاف فوری تحفظ فراہم کرنے کی درخواست پر فوری سماعت سے انکار کرتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ درخواست گزار کو پہلے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے معاملے کی براہِ راست سماعت سے انکار کر دیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمارت کا نقشہ باقاعدہ طور پر منظور شدہ ہے، اس کے باوجود حکام انہدام کی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ تعمیر منظور شدہ نقشے کے مطابق کی گئی ہے، جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ تعمیر تالاب کی زمین پر کی گئی ہے۔
وکیل نے جاری انہدامی کارروائی کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے فوری عبوری تحفظ دینے کی درخواست کی، تاہم چیف جسٹس نے نہ صرف فوری سماعت بلکہ کسی بھی قسم کی عبوری راحت دینے سے بھی انکار کر دیا۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر پہلے غور نہیں کرے گی اور درخواست گزار کو مناسب قانونی چارہ جوئی کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنا ہوگا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ "چاہے آج پوری عمارت گرا بھی دی جائے، تب بھی میں..." اور اپنی بات ادھوری چھوڑتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت اس مرحلے پر مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فریقین میں متعلقہ ہائی کورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے براہِ راست سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی درخواست کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔