نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ہریانہ کی مہارشی دیانند یونیورسٹی (ایم ڈی یو) کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اس بنیاد پر منسوخ کرنے سے انکار کر دیا کہ ان کی پی ایچ ڈی ڈگری مبینہ طور پر جعلی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس عہدے کے لیے پی ایچ ڈی لازمی تعلیمی اہلیت نہیں تھی۔ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس منموہن کی بنچ نے تاہم روہتک واقع ایم ڈی یو کو ہدایت دی کہ وہ متعلقہ اسسٹنٹ پروفیسر کی پی ایچ ڈی ڈگری کی صداقت کی جانچ کرے۔ عدالت نے کہا کہ اگر ڈگری جعلی پائی جاتی ہے تو یونیورسٹی اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس میں شکایت درج کرا سکتی ہے۔
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس عہدے کے لیے پی ایچ ڈی ضروری اہلیت نہیں تھی اور متعلقہ اسسٹنٹ پروفیسر نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن-نیشنل ایلیجیبلٹی ٹیسٹ (یو جی سی-نیٹ) پاس کرنے کی لازمی شرط پوری کی تھی۔ بنچ نے کہا، ’’یہ ایسا معاملہ ہے جس میں آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال مناسب ہوگا
۔ ریکارڈ پر موجود دستاویزی شواہد اس بات کے متقاضی ہیں کہ مہارشی دیانند یونیورسٹی چھٹے فریق (اسسٹنٹ پروفیسر) کے خلاف دوبارہ جانچ کرے، تاکہ بندیل کھنڈ یونیورسٹی کی جانب سے سامنے لائی گئی معلومات کی روشنی میں ان کی پی ایچ ڈی ڈگری کی تصدیق کی جا سکے اور یہ اطمینان کیا جا سکے کہ ڈگری اصلی ہے اور چھٹے فریق نے خود کو پی ایچ ڈی ڈگری یافتہ ظاہر کرکے یونیورسٹی کے ساتھ کوئی دھوکہ دہی نہیں کی۔‘‘ مبینہ طور پر یہ پی ایچ ڈی ڈگری بندیل کھنڈ یونیورسٹی نے جاری کی تھی۔
ایم ڈی یو سے منسلک روہتک کے ست جندا کلیانا کالج نے 14 فروری 2018 کو جسمانی تعلیم کے اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے کے لیے خالی آسامی کا اشتہار جاری کیا تھا۔ انتخاب کا عمل مکمل ہونے کے بعد چھٹا فریق سب سے زیادہ اہل امیدوار کے طور پر سامنے آیا اور بالآخر اسے اس عہدے پر مقرر کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ایم ڈی یو کو معاملے کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے تفصیلی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی۔ بنچ نے کہا، ’’تحقیقات کے دوران چھٹے فریق کو بندیل کھنڈ یونیورسٹی کے حکام کی موجودگی میں اپنی اصل پی ایچ ڈی ڈگری پیش کرنا ہوگی۔
بندیل کھنڈ یونیورسٹی کے حکام کو بھی وہ دستاویزات پیش کرنا ہوں گی جن کی بنیاد پر اس عدالت میں حلف نامہ داخل کیا گیا تھا۔‘‘ عدالت نے کہا کہ اسسٹنٹ پروفیسر کو اپنا موقف مؤثر طریقے سے پیش کرنے اور گواہوں سے جرح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
قدرتی انصاف کے اصولوں کے مطابق ہونے والی تحقیقات کے نتیجے کی بنیاد پر قانون کے تحت مزید کارروائی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر تحقیقات کا نتیجہ اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف آتا ہے اور پی ایچ ڈی ڈگری جعلی پائی جاتی ہے تو ایم ڈی یو، ست جندا کلیانا کالج، بندیل کھنڈ یونیورسٹی یا کوئی اور متعلقہ فریق اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرا سکتا ہے، تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔