اوبی سی کر یمی لیئر پر سپریم کورٹ کا آرڈر

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 12-03-2026
اوبی سی کر یمی لیئر پر سپریم کورٹ کا آرڈر
اوبی سی کر یمی لیئر پر سپریم کورٹ کا آرڈر

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دیگر پسماندہ طبقہ (OBC) کے کسی بھی امیدوار کا نان کر یمی یا کُریمی لیئر میں آنا صرف والدین کی آمدنی سے نہیں طے کیا جا سکتا۔ بدھ، 11 مارچ 2026 کو عدالت نے OBC کے نان-کُریمی لیئر (NCL) کے تعین میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے یہ تاریخی فیصلہ سنایا۔

عدالت نے کہا کہ کُریمی لیئر کا تعین صرف والدین کی تنخواہ یا آمدنی پر مبنی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ 1993 کے اصل رہنما خطوط کے مطابق پوسٹ کی سطح، عہدے کی حیثیت اور دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ جسٹس پی ایس نرسمہ اور جسٹس آر مہادے ون کی بنچ نے مدراس، کیرلا اور دہلی ہائی کورٹ کے ان فیصلوں کی تصدیق کی، جو سول سروس امتحانات میں OBC (نان-کُریمی لیئر) کے فوائد کا دعویٰ کرنے والے امیدواروں کی اہلیت سے متعلق تھے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر والدین سرکاری ملازمت میں گروپ C یا D (کلاس III یا IV) میں ہیں، تو ان کی تنخواہ کو کُریمی لیئر طے کرنے کے لیے شامل نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح زرعی آمدنی کو بھی مکمل طور پر خارج کیا جائے گا۔ کُریمی لیئر کا تعین صرف "دیگر ذرائع" (جیسا کہ کاروبار، جائیداد، کرایہ وغیرہ) سے حاصل خاندان کی کل آمدنی کے اوسط پر تین مسلسل سالوں میں 8 لاکھ روپے سالانہ سے کم ہونے پر کیا جائے گا۔

عدالت نے اس فیصلے میں 2004 کے پرسنل اینڈ ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے پیرا 9 کو کالعدم قرار دیا، جس میں بینک، نجی شعبہ یا PSU ملازمین کی تنخواہ کو کُریمی لیئر میں شامل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ عدالت نے اسے امتیازی سلوک قرار دیا اور کہا کہ سرکاری ملازمین کے بچوں اور نجی/PSU ملازمین کے بچوں کے ساتھ الگ سلوک نہیں کیا جا سکتا۔

جب تک PSU یا نجی پوسٹ کو سرکاری گروپ تھرڈ یا فور کے مساوی نہیں سمجھا جاتا، تب تک صرف 1993 کے اصل احکام لاگو رہیں گے۔ یہ فیصلہ ان ہزاروں OBC امیدواروں کے لیے بڑی راحت ہے، جنہیں پہلے غلط تنخواہ یا دیگر غلط تشریح کی وجہ سے کُریمی لیئر مان کر آرکشن سے محروم رکھا گیا تھا۔ ایسے لوگ سرکاری ملازمت میں ہیں، لیکن صحیح کیڈر یا عہدے تک نہیں پہنچ پائے۔

عدالت نے اس فیصلے کو ریٹروسپیکٹیو (ماضی سے لاگو) کرنے کی ہدایت دی ہے۔ DOPT کو اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر سپرنمیوری پوسٹس (اضافی عہدے) بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ دیگر کیٹیگری کے ملازمین کی سینیورٹی متاثر نہ ہو۔

آگے چل کر سول سروسز امتحان میں جائز OBC-NCL سرٹیفیکیٹ (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یا تحصیلدار کی طرف سے جاری) کو ترجیح دی جائے گی اور صرف تنخواہ کی بنیاد پر ریجیکشن بند کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے سے OBC آرکشن کا اصل مقصد بحال ہوگا، یعنی پسماندہ طبقے کے حقیقی ضرورت مندوں تک فائدہ پہنچانا۔ روہت ناتھ (CSE-2012) اور کیٹن بیچ (CSE-2015) جیسے کئی معاملات میں DOPT کو 6 ماہ میں دوبارہ جانچ کر OBC-NCL اسٹیٹس بحال کرنا ہوگا۔