نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے پیر کے روز کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے پہلے ہونے والے نیٹ پیپر لیک معاملے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ عدالت نے مرکز، این ٹی اے اور سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) سے ان درخواستوں پر جواب طلب کیا ہے جن میں میڈیکل داخلہ امتحان کے انعقاد کے لیے این ٹی اے کی جگہ ایک مضبوط اور خود مختار ادارہ قائم کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔
جسٹس پی۔ ایس۔ نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل بنچ نے ہدایت دی کہ درخواستوں کی نقل دیگر فریقین کے ساتھ ساتھ سالیسٹر جنرل تشا ر مہتا کو بھی فراہم کی جائے۔ عدالت نے این ٹی اے کو ہدایت دی کہ وہ 2024 میں عدالت کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد کے بارے میں جمعرات تک حلف نامہ داخل کرے۔ بنچ نے کہا، ’’یہ افسوسناک ہے کہ انہوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ یہ معاملہ پہلے بھی اس عدالت کے سامنے آیا تھا۔
ایک کمیٹی اور نگرانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے کچھ سفارشات پیش کی تھیں اور انہیں قبول بھی کیا گیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ این ٹی اے کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں حلف نامہ داخل کرے۔
‘‘ سپریم کورٹ نے فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن (ایف اے آئی ایم اے) کی جانب سے وکیل تنوی دوبے کے ذریعے دائر درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام اسی نوعیت کے معاملات کو یکجا کر رہی ہے۔ عدالت نے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سابق سربراہ کے۔ رادھا کرشنن کی قیادت والی مرکزی کمیٹی کو این ٹی اے کے کام کاج میں بہتری اور عدالتی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔
طبی تنظیم نے بار بار پیپر لیک ہونے کے باعث 22.7 لاکھ سے زیادہ طلبہ کے بنیادی حقوق پر ’’براہِ راست حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ تنظیم نے این ٹی اے کی تنظیمِ نو یا اس کی جگہ قومی اہلیت و داخلہ امتحان-انڈر گریجویٹ (نیٹ-یو جی) کے انعقاد کے لیے ایک مضبوط اور خود مختار نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک دوبارہ امتحان کی نگرانی کے لیے باضابطہ نئی کمیٹی تشکیل نہیں دی جاتی، تب تک ایک اعلیٰ سطحی نگرانی کمیٹی مقرر کی جائے۔ درخواست کے مطابق اس کمیٹی میں سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کو چیئرمین، سائبر سکیورٹی ماہرین اور فارینزک سائنسدانوں کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے ڈیٹا لیک کو روکا جا سکے۔ میڈیکل تعلیم کے کورسز میں داخلے کے لیے این ٹی اے کے ذریعے 3 مئی کو منعقدہ نیٹ-یو جی امتحان کو پیپر لیک کے الزامات کے بعد 12 مئی کو منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کی تحقیقات اب سی بی آئی کر رہی ہے۔