نئی دہلی: سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں سزا یافتہ 105 سالہ رسک چندر منڈل کو جمعہ کے روز بڑی راحت دیتے ہوئے 2024 میں دی گئی ان کی ضمانت کو ہی حتمی حکم قرار دے دیا۔ مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں 1920 میں پیدا ہونے والے منڈل کو 1988 میں ہونے والے ایک قتل کے معاملے میں 1994 میں، 68 سال کی عمر میں، سزا سنائی گئی تھی۔ وہ 29 نومبر 2024 تک جیل میں تھے، جس کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے جمعہ کو کہا کہ درخواست گزار کی عمر کو دیکھتے ہوئے معاملہ بند کیا جاتا ہے اور اگر سزا کا کوئی حصہ باقی ہے تو اسے معاف کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگرچہ عمر قید کی سزا ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی، تاہم منڈل کو دوبارہ حراست میں نہیں لیا جائے گا۔
بنچ نے 2024 کے عبوری ضمانت کے حکم کو مکمل اور حتمی قرار دے دیا۔ عدالت نے پہلے اپنے حکم میں کہا تھا، ’’عبوری حکم کے طور پر ہم ہدایت دیتے ہیں کہ درخواست گزار رسک چندر منڈل کو موجودہ رِٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران عبوری ضمانت یا پیرول پر رہا کیا جائے، اور اس کے لیے شرائط نچلی عدالت طے کرے گی۔‘‘ سپریم کورٹ نے اس وقت منڈل کی زیادہ عمر سے متعلق صحت کے مسائل کا بھی ذکر کیا تھا۔
سال 2018 میں کلکتہ ہائی کورٹ نے قتل کے مقدمے میں سزا کے خلاف منڈل کی اپیل مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں ان کی درخواست بھی مسترد ہو گئی۔ سال 2020 میں 99 برس کی عمر میں منڈل نے بڑھتی عمر اور اس سے وابستہ صحت کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے قبل از وقت رہائی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ مئی 2021 میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مغربی بنگال حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔