نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے راجستھان میں درج کروڑوں روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے مقدمے میں جمعرات کے روز فلم ساز وکرم بھٹ کو ضمانت دے دی۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ، جس میں جسٹس جوئمالیا باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی شامل تھے، نے وکرم بھٹ کی اہلیہ شویتامبری بھٹ کو اس مقدمے میں پہلے دی گئی عبوری ضمانت کو بھی باقاعدہ (ریگولر) ضمانت میں تبدیل کر دیا۔
شویتامبری بھٹ کو 13 فروری کو عبوری ضمانت دی گئی تھی۔ اس سے قبل 31 جنوری کو راجستھان ہائی کورٹ نے اس دھوکہ دہی کیس میں میاں بیوی کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ دونوں کو گزشتہ سال دسمبر میں ممبئی سے گرفتار کر کے ادے پور منتقل کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے دونوں کو ضمانت دیتے ہوئے فریقین کو ہدایت کی کہ وہ ثالثی کے ذریعے باہمی افہام و تفہیم سے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
’اندرا آئی وی ایف اینڈ فرٹیلیٹی سینٹر‘ کے بانی اور ادے پور کے رہائشی اجے مُرڈیا نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ نے انہیں بھاری منافع کا لالچ دے کر ان کی مرحومہ اہلیہ کی سوانح حیات پر مبنی فلم میں 30 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔ اجے مُرڈیا کی جانب سے وکرم بھٹ، ان کی اہلیہ اور دیگر افراد کے خلاف دھوکہ دہی اور مجرمانہ اعتماد شکنی کی شکایت درج کرانے کے بعد فلم ساز کو گرفتار کیا گیا تھا۔
الزام تھا کہ فلم کے نام پر حاصل کی گئی رقم کا غلط استعمال کیا گیا۔ شکایت کے مطابق تقریباً 30 کروڑ روپے کی رقم میں خرد برد کی گئی۔ مزید یہ بھی الزام ہے کہ بھٹ خاندان نے مختلف ناموں سے جعلی بل تیار کر کے شکایت کنندہ سے رقوم منتقل کروائیں۔ یہ رقم فلم کی تیاری پر خرچ ہونا تھی، تاہم الزام ہے کہ ملزمان نے اسے اپنے ذاتی کھاتوں میں منتقل کر کے استعمال کر لیا۔ وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ کے علاوہ، ادے پور کے رہائشی دنیش کٹاریا اور بھٹ کے منیجر محبوب انصاری کو بھی راجستھان پولیس نے 7 دسمبر 2025 کو گرفتار کیا تھا۔