نئی دہلی: راہل گاندھی نے میڈیکل داخلہ امتحان “نیٹ-یو جی” کے پرچہ لیک معاملے پر راجستھان میں کانگریس اور طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور پرچہ لیک روکنے کے محفوظ نظام کے قیام تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اٹلی میں ٹافیاں بانٹ رہے تھے، اُس وقت پرچہ لیک سے پریشان نوجوان سڑکوں پر انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا: “جب مودی جی اٹلی میں ٹافیاں کھلاتے ہوئے ویڈیو بنا رہے تھے، اُس وقت پرچہ لیک سے متاثرہ بھارت کے نوجوان سڑکوں پر انصاف مانگ رہے تھے۔
نیٹ پرچہ لیک نے لاکھوں طلبہ کا مستقبل تباہ کر دیا۔ کئی بچوں نے تو اپنی جان تک گنوا دی۔ مودی جی نے نہ ذمہ داری لی، نہ دھرمیندر پردھان کو ہٹایا اور نہ ہی ایک لفظ کہا۔” انہوں نے کہا کہ اب جب طلبہ، این ایس یو آئی اور کانگریس کارکن انصاف کی آواز بلند کر رہے ہیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی حکومتیں ان پر لاٹھیاں برسا رہی ہیں۔
راہل گاندھی کے مطابق: “جو حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب لاٹھی سے دیتی ہے، وہ جوابدہی سے نہیں بلکہ خوف سے چلتی ہے۔ لیکن ہم ڈرنے والے نہیں۔ ہم اُس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے اور ملک میں پرچہ لیک روکنے کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ نظام قائم نہیں ہو جاتا۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ جدوجہد ہر اُس طالب علم کے لیے ہے جس کا مستقبل اس ناکام حکومت نے برباد کیا ہے۔