نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک پادری کے خلاف جاری فوجداری کارروائی اور سمن پر روک لگا دی، جنہوں نے عیسائی مذہب کو واحد سچا مذہب قرار دیا تھا۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے ریورنڈ فادر وینیت ونسنٹ پریرا کی درخواست پر اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا۔
اس درخواست میں انہوں نے اپنے خلاف فوجداری کارروائی کو منسوخ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے 18 مارچ کے حکم کو چیلنج کیا تھا۔ پادری کی جانب سے پیش سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے کہا کہ پولیس نے انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی دفعہ 295 اے لگائی ہے، جو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی اقدامات سے متعلق ہے۔
بنچ نے کہا کہ وہ اس درخواست پر نوٹس جاری کر رہی ہے اور اتر پردیش حکومت سے جواب طلب کرے گی۔ دوے نے پادری کے خلاف جاری فوجداری کارروائی اور سمن پر روک لگانے کی درخواست کی تھی، جسے عدالت نے قبول کرتے ہوئے کارروائی پر عبوری روک لگا دی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے 18 مارچ کو فادر پریرا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت جیسے سیکولر ملک میں کسی ایک مذہب کو “واحد سچا مذہب” قرار دینا غلط ہے اور یہ دیگر مذاہب کی توہین کے مترادف ہو سکتا ہے، جس پر قانون لاگو ہو سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اس طرح کے بیانات بظاہر آئی پی سی کی دفعہ 295 اے کے دائرے میں آتے ہیں، جو مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے ارادے سے کیے گئے بدنیتی پر مبنی اقدامات سے متعلق ہے۔
حکم میں کہا گیا تھا: “کسی بھی مذہب کے لیے یہ دعویٰ کرنا کہ وہی واحد سچا مذہب ہے، غلط ہے کیونکہ اس سے دیگر مذاہب کی توہین ہوتی ہے۔” اتر پردیش پولیس کی درج ایف آئی آر کے مطابق، درخواست گزار نے مبینہ طور پر دعائیہ اجتماعات منعقد کیے، جہاں وہ بار بار کہتے تھے کہ عیسائیت ہی واحد سچا مذہب ہے، جس سے دیگر برادریوں کے افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔
تحقیقات کے دوران تفتیشی افسر کو غیر قانونی مذہب تبدیلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم دیگر مذاہب پر تنقید کے الزامات کے تحت چارج شیٹ داخل کرنے کا عمل جاری رکھا گیا۔ فادر پریرا کے وکیل نے ہائی کورٹ میں دلیل دی کہ انہیں غلط طور پر پھنسایا گیا ہے اور آئی پی سی کی دفعہ 295 اے کے تحت کوئی جرم نہیں بنتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجسٹریٹ نے اپنے عدالتی اختیار کا صحیح استعمال کیے بغیر چارج شیٹ پر نوٹس لیا۔