ریاستی درجہ بحال ہونا ضروری: عمر عبداللہ

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 21-07-2026
ریاستی درجہ بحال ہونا ضروری: عمر عبداللہ
ریاستی درجہ بحال ہونا ضروری: عمر عبداللہ

 



سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کو دوبارہ ریاست کا درجہ ملنا، اس کے خصوصی درجے کی بالآخر بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ سری نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاستی درجہ بحال کرنے کے مرکز کے وعدے کی مسلسل یاد دہانی کراتی رہے گی اور امید ہے کہ حکومت اپنا وعدہ پورا کرے گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہلی میں ان کا احتجاج ان کی جماعت کی مہم کا صرف آغاز ہے، اختتام نہیں۔ واضح رہے کہ پیر کو عمر عبداللہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر جنتر منتر میں احتجاج کے لیے پہنچے تھے، لیکن کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے باعث سکیورٹی کے سخت انتظامات کے سبب پولیس نے انہیں احتجاجی مقام تک جانے سے روک دیا تھا۔

عمر عبداللہ نے کہا، ’’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے دفعہ 370 اور جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کی بحالی کی بات کریں۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر ریاستی درجہ ہی نہیں ہوگا تو پھر دفعہ 370 یا 371 کا کیا مطلب رہ جائے گا؟‘‘ انہوں نے کہا کہ خصوصی درجے کی بحالی کے لیے سب سے پہلے ریاستی درجہ بحال ہونا ضروری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’جموں و کشمیر کو جو بھی خصوصی درجہ ملے، چاہے وہ دفعہ 370 کے تحت ہو یا کسی اور آئینی بندوبست کے ذریعے، اصل مسئلہ مرکز اور ریاست کے درمیان اختیارات کی تقسیم کا ہے۔ مرکز اور کسی مرکز کے زیر انتظام علاقے کے درمیان اختیارات کی تقسیم نہیں ہوسکتی، کیونکہ یو ٹی کے اپنے اختیارات نہیں ہوتے۔ اس کے تمام اختیارات یا تو مرکزی حکومت کے پاس ہوتے ہیں یا پھر لیفٹیننٹ گورنر کے پاس۔

کابینہ کے تمام فیصلے پہلے راج بھون بھیجے جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی فہرست ہی موجود نہ ہو تو خصوصی درجے کے تحت اختیارات کی تقسیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اصل بحث یہی ہے کہ ریاستی، مرکزی اور مشترکہ فہرستوں میں اختیارات کی تقسیم کیسے ہوگی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ خصوصی درجے کی بحالی کی بنیاد ریاستی درجہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ریاستی درجہ ہی نہیں ہوگا تو ریاستی فہرست کہاں سے آئے گی؟ پھر سب کچھ مرکزی فہرست کے دائرے میں ہوگا۔

اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ پہلے بنیاد رکھنی ہوگی، تبھی اس پر عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت خصوصی درجے کے مسئلے کو نہیں بھولی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت بننے کے بعد اسمبلی کے پہلے اجلاس کے پہلے ہی دن ہم نے خصوصی درجے سے متعلق قرارداد منظور کرائی تھی۔

وہ قرارداد آج بھی برقرار ہے اور اس پر مؤثر بحث اسی وقت ممکن ہوگی جب جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ مل جائے گا۔‘‘ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے عوام کو یقین دلایا کہ نیشنل کانفرنس اپنے وعدوں پر قائم ہے اور انہیں پورا کرنے کے لیے پُرعزم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت جلد نئی حکمت عملی اور آئندہ کے پروگرام کا اعلان کرے گی۔