نئی دہلی: سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ رشوت ستانی اور بدعنوانی سے متعلق جرائم کے معاملے میں، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت ریاستی پولیس کے افسران مرکزی سرکاری ملازمین کے خلاف بھی جانچ کر سکتے ہیں اور چارج شیٹ داخل کر سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاستی پولیس کی جانب سے مرکز کے کسی ملازم کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے پہلے مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) کی پیشگی اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔
جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل بنچ نے پیر کے روز کہا کہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت جرائم کی تفتیش ریاستی ایجنسی، مرکزی ایجنسی یا کسی بھی پولیس ایجنسی کے ذریعے کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ تفتیش کرنے والا پولیس افسر مخصوص درجہ (رینک) کا ہو۔ بنچ نے کہا کہ اس کا ذکر ایکٹ کی دفعہ 17 میں موجود ہے۔
عدالت نے کہا کہ دفعہ 17 ریاستی پولیس یا ریاست کی کسی خصوصی ایجنسی کو مرکزی سرکاری ملازمین کے خلاف رشوت، بدعنوانی اور بدعنوان طرزِ عمل سے متعلق مقدمات درج کرنے یا ان کی تفتیش کرنے سے نہیں روکتی۔ بنچ نے کہا، “سہولت اور کام کی تکرار سے بچنے کے لیے، مرکزی حکومت اور اس کے اداروں کے ملازمین کے خلاف رشوت اور بدعنوانی کے معاملات کی تفتیش کی ذمہ داری سی بی آئی کو دی گئی ہے، جبکہ ریاستی حکومت اور اس کے اداروں کے ملازمین کے خلاف بدعنوانی کے معاملات کی جانچ کی ذمہ داری ریاستی اینٹی کرپشن بیورو کو سونپی گئی ہے۔
عدالت نے کہا کہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت جرائم قابلِ گرفت (Cognizable) ہوتے ہیں، اس لیے ریاستی پولیس ان کی تفتیش کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ حکم راجستھان ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے آیا ہے، جس میں مرکزی حکومت کے ایک ملازم کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اگرچہ ملزم ایک مرکزی سرکاری ملازم تھا، اس کے باوجود راجستھان اینٹی کرپشن بیورو کو انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت فوجداری مقدمہ درج کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا، ہائی کورٹ نے یہ کہہ کر درست مؤقف اپنایا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ صرف سی بی آئی ہی استغاثہ (پراسیکیوشن) شروع کر سکتی ہے۔