نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے پیر کے روز ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ ڈاکٹر گیتانجلی انگمو کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے وانگچک کی مکمل طبی رپورٹ طلب کر لی۔ اپیل میں سنگل جج کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں وانگچک کو صفدر جنگ اسپتال سے ڈسچارج کرکے میدانتا اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تیجس کریا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ صرف پیتھالوجی رپورٹس کی بنیاد پر مریض کی حالت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ انہیں مریض کی مجموعی طبی کیفیت کے ساتھ ملا کر دیکھا جانا چاہیے۔ عدالت نے صفدر جنگ اسپتال کو ہدایت دی کہ وہ حلف نامہ داخل کرکے صفدر جنگ اسپتال، ایمس اور نجی لیبارٹری کی تمام پیتھالوجی رپورٹس اور وانگچک کی صحت سے متعلق جاری کیے گئے تمام میڈیکل بلیٹن عدالت میں پیش کرے۔
عدالت نے اپیل کنندہ کو بھی نجی لیبارٹری سے حاصل کردہ رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت دی۔ عدالت نے ایمس کے ڈائریکٹر، ایمرجنسی میڈیسن کے انچارج، صفدر جنگ اسپتال میں وانگچک کے معالج اور خاندان کے مشاورتی ڈاکٹر کو اگلی سماعت پر موجود رہنے کا حکم دیا۔ اب اس معاملے کی سماعت منگل کو ہوگی۔
وانگچک کی اہلیہ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل اکھل سبل نے مؤقف اختیار کیا کہ 16 جولائی کے عدالتی حکم میں صرف بھوک ہڑتال کے دوران وانگچک کی طبی نگرانی کی ہدایت دی گئی تھی، احتجاجی مقام سے انہیں زبردستی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
سبل نے کہا کہ 17 جولائی کی طبی رپورٹ کے مطابق وانگچک کے جسم میں پوٹاشیم کی مقدار معمول کے مطابق تھی اور وہ سرکاری و نجی دونوں ڈاکٹروں کی نگرانی میں تھے، اس کے باوجود 18 جولائی کو انہیں اور ان کے اہل خانہ سے مشورہ کیے بغیر زبردستی صفدر جنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ خاندان کو ابتدائی طور پر میڈیکل رپورٹس بھی فراہم نہیں کی گئیں اور بھوک ہڑتال کے دوران نگرانی کرنے والے ڈاکٹروں کو اسپتال میں وانگچک کا معائنہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ سبل نے عدالت کو بتایا کہ خاندان نے وانگچک کو ڈسچارج کرکے اپنی پسند کے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست دی تھی تاکہ آزادانہ طبی جانچ کرائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ آزادانہ جانچ کے لیے خون کے نمونے لینے میں تقریباً دس گھنٹے لگے اور اس رپورٹ میں بھی پوٹاشیم کی سطح معمول کے مطابق پائی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے سبل نے کہا کہ وانگچک مکمل طور پر ہوش میں ہیں، ذہنی طور پر مستحکم ہیں، خود خطوط لکھ رہے ہیں اور اپنے علاج سے متعلق فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق وہ نہ آئی سی یو میں ہیں، نہ لائف سپورٹ پر، اس لیے انہیں سرکاری اسپتال میں ان کی مرضی کے خلاف نہیں رکھا جا سکتا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیکل رپورٹس خاندان کے ساتھ شیئر کی جانی چاہئیں، لیکن علاج سے متعلق فیصلے صرف لیبارٹری رپورٹس کی بنیاد پر نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طویل بھوک ہڑتال گردوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اس لیے عدالت وانگچک کی تازہ طبی رپورٹ دیکھنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشا ر مہتا نے کہا کہ حکومت کا واحد مقصد وانگچک کی جان کا تحفظ ہے۔
ان کے مطابق اگر کسی احتجاجی کی صحت اس حد تک بگڑ جائے کہ جان کو خطرہ لاحق ہو اور امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہو، تو ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مداخلت کرے۔ مہتا نے عدالت کو بتایا کہ وانگچک کے تحفظات کے بعد ایمس کے ایک ڈاکٹر کو مستقل طور پر صفدر جنگ اسپتال میں تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معالجین نے فوری طور پر منہ یا رگ کے ذریعے سیال مادے دینے کا مشورہ دیا تھا، لیکن خاندان نے ابھی تک اس طبی مداخلت پر رضامندی نہیں دی۔ سماعت کے اختتام پر عدالت نے ہدایت دی کہ اگر اگلی سماعت سے پہلے کسی طبی مداخلت کی ضرورت پیش آئے تو معالجین پہلے ایمس کے ڈائریکٹر سے مشورہ کریں۔ یہ اپیل اور جنتر منتر پر احتجاج کرنے والوں کی مبینہ نگرانی سے متعلق درخواست پر مزید سماعت منگل کو ہوگی۔