نئی دہلی : آواز دی وائس
معاشرے کو صرف حافظ۔ قاری اور مولوی ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر۔ انجینئر۔ سائنسدان۔ جج۔ استاد۔ منتظم اور سیاستدان بھی درکار ہیں۔ اگر پوری قوم صرف ایک ہی شعبے کی طرف چلی جائے اور دیگر ضروری میدان خالی چھوڑ دے تو معاشرہ کمزور ہو جاتا ہے۔
ایک عالمِ دین مولانا عبداللہ فاروق کا تفصیلی خطاب سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کے تعلیمی۔ سماجی اور دینی رویوں پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام انسان کو صرف عبادات تک محدود رہنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دنیا اور آخرت دونوں میں توازن قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ ان کے مطابق حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ انسان صرف دنیا میں دولت۔ شہرت اور اقتدار حاصل کر لے بلکہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے اور دنیا کو بھی اسی مقصد کے تحت بہتر بنانا ضروری ہے۔

دنیا کی ظاہری کامیابی دھوکہ بھی ہو سکتی ہے
خطاب کے آغاز میں مولانا عبداللہ فاروق نے اس تصور پر تنقید کی کہ لوگ دنیاوی کامیابی کو ہی اصل کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر انسان یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کے پاس دولت۔ شہرت۔ عہدہ اور اختیار ہے تو وہ کامیاب ہے جبکہ قرآنِ کریم دنیا کی زندگی کو “متاع الغرور” یعنی دھوکے کا سامان قرار دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں جس قدر زیادہ دولت۔ شہرت اور اختیار ہوگا اتنا ہی زیادہ حساب بھی دینا پڑے گا۔ ان کے مطابق بعض لوگ بڑے محلات۔ گاڑیوں۔ عہدوں اور اثر و رسوخ کو کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ قیامت کے دن انہی چیزوں کے بارے میں سخت سوالات ہوں گے۔
اصل کامیابی جنت کا حصول ہے
عالمِ دین نے قرآنِ کریم کی آیت “فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کامیاب انسان وہ ہے جسے جہنم سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جنت محض خواہشات یا دعاؤں سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس کے لیے انسان کو اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق گزارنا ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد کے اندر اور مسجد کے باہر دونوں جگہ ایک مسلمان کو اپنے کردار۔ معاملات اور رویوں میں اسلام کو اختیار کرنا ہوگا۔
دین صرف عبادات تک محدود نہیں
خطاب کے دوران انہوں نے اس سوچ پر افسوس ظاہر کیا کہ بعض لوگ دین کو صرف نماز۔ روزہ۔ تسبیح۔ نوافل اور چند فقہی مسائل تک محدود سمجھتے ہیں جبکہ اسلام زندگی کے ہر شعبے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قرآنِ کریم صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ اس میں سیاست۔ معیشت۔ زراعت۔ فلکیات۔ سماجیات۔ عدالت۔ حکومت۔ جنگ۔ امن اور انسانی تعلقات کے اصول بھی بیان کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قرآن میں حضرت داؤد۔ حضرت سلیمان اور ذوالقرنین جیسے حکمرانوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ اسی طرح فرعون۔ نمرود اور جالوت جیسے کرداروں کے ذریعے طاقت اور ظلم کے نتائج بھی بیان کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن سمندروں۔ زمین۔ کھیتی باڑی اور کائنات کے نظام تک پر گفتگو کرتا ہے تو پھر مسلمانوں نے اسے صرف چند فقہی مباحث تک کیوں محدود کر دیا ہے۔
صرف نوافل کافی نہیں۔ معاشرے کی خدمت بھی ضروری
مولانا عبداللہ فاروق نے اپنے خطاب میں اس بات پر خصوصی زور دیا کہ انسان صرف عبادات میں مشغول رہ کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے پڑوس میں کوئی بیمار ہے۔ کسی کے گھر موت ہو گئی ہے۔ کوئی غریب یا ضرورت مند پریشان ہے اور انسان ان سب سے بے خبر ہو کر صرف نوافل اور ذکر و اذکار میں مشغول رہے تو یہ دین کا مکمل تصور نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ انسان وہی ہے جو عبادات کے ساتھ ساتھ انسانوں کے حقوق ادا کرے اور معاشرے کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
دنیا اور آخرت میں توازن کی تعلیم
انہوں نے قرآن کی دعا “ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مومن دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی مانگتا ہے۔ نہ وہ دنیا کو مکمل طور پر چھوڑتا ہے اور نہ آخرت سے غافل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ صرف دنیا میں کھو جاتے ہیں جبکہ بعض لوگ دنیا کو مکمل ترک کر کے صرف عبادات میں لگ جاتے ہیں۔ اسلام ان دونوں انتہاؤں کے بجائے اعتدال اور توازن کا راستہ سکھاتا ہے۔
اسلام میں آزادی مگر حدود کے ساتھ
خطاب کے دوران انہوں نے حدیث “الدنیا سجن المؤمن” کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام انسان کی زندگی کو تنگ کر دیتا ہے بلکہ اسلام انسان کے لیے ایک اخلاقی اور شرعی دائرہ متعین کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام خوشی منانے سے نہیں روکتا بلکہ بے حیائی اور حدود سے تجاوز سے منع کرتا ہے۔ اسی طرح غم کے وقت رونے سے نہیں روکتا بلکہ چیخنے چلانے اور خلافِ شریعت اعمال سے منع کرتا ہے۔ان کے مطابق اسلام انسان کو زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دیتا ہے مگر اس آزادی کو ذمہ داری اور اخلاقیات کے ساتھ جوڑتا ہے۔
تبدیلی کے لیے خود کوشش کرنا ہوگی
انہوں نے قرآنِ کریم کی مشہور آیت “اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف دعاؤں اور خواہشات سے معاشرے تبدیل نہیں ہوتے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو خود میدان میں اترنا ہوگا۔ اگر عدلیہ میں انصاف چاہیے تو مسلمانوں کو جج بننا ہوگا۔ اگر صحت کا نظام بہتر چاہیے تو ڈاکٹر بننا ہوگا۔ اگر انتظامیہ درست چاہیے تو نوجوانوں کو سول سروس میں جانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ صرف شکایتیں کرنے سے حالات نہیں بدلیں گے بلکہ عملی کردار ادا کرنا ہوگا۔
مدارس کے موجودہ رجحان پر تنقید
اپنے خطاب میں انہوں نے مدارس اور مسلم تعلیمی اداروں کے بعض رجحانات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر پورا زور صرف حافظ اور مولوی تیار کرنے پر دیا جا رہا ہے جبکہ معاشرے کی دیگر ضروریات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک گاؤں میں چند ائمہ اور علما کافی ہوتے ہیں مگر پورے معاشرے کو ڈاکٹر۔ انجینئر۔ سائنسدان۔ جج۔ وکیل۔ تاجر۔ استاد اور ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر مسلمان ہر شعبے میں اپنی موجودگی مضبوط نہیں کریں گے تو معاشرہ دوسروں پر انحصار کرتا رہے گا اور مسائل بڑھتے جائیں گے۔
علما سے جدید تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اپیل
مولانا عبداللہ فاروق نے کہا کہ چونکہ عوام علما کی بات سنتے ہیں اس لیے علما کو چاہیے کہ وہ صرف مدارس ہی نہیں بلکہ میڈیکل کالج۔ انجینئرنگ کالج۔ لاء کالج۔ کامرس کالج اور دیگر جدید تعلیمی ادارے بھی قائم کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان دینی تعلیم کے ساتھ جدید علوم میں بھی آگے بڑھیں گے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔خطاب کے اختتام پر انہوں نے غربت اور معاشرتی برائیوں کے تعلق پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ شدید معاشی مشکلات بعض اوقات انسان کو غلط راستوں کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں انصاف۔ تعلیم۔ صحت اور روزگار کے بہتر مواقع ہوں تو لوگ سکون اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔
نوجوان نسل کے لیے اہم پیغام
سوشل میڈیا پر اس خطاب کو بڑی تعداد میں لوگ پسند کر رہے ہیں اور صارفین کا کہنا ہے کہ یہ بیان نوجوان نسل کے لیے نہایت اہم پیغام رکھتا ہے۔ بہت سے افراد نے اسے دین اور دنیا کے درمیان متوازن سوچ کی مؤثر ترجمانی قرار دیا ہے جبکہ کئی لوگوں نے مسلم معاشرے میں تعلیمی تنوع اور عملی کردار کی ضرورت پر زور دینے کو وقت کی اہم ضرورت بتایا ہے۔