حکومت کے خلاف صرف نعرے بازی غداری نہیں: پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ

Story by  ATV | Posted by  [email protected] | Date 15-07-2026
حکومت کے خلاف صرف نعرے بازی غداری نہیں: پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ
حکومت کے خلاف صرف نعرے بازی غداری نہیں: پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ

 



 چنڈی گڑھ: پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی احتجاج یا پرتشدد مظاہرے میں شرکت کرنا یا حکومت کے خلاف نعرے لگانا بذاتِ خود غداری (Sedition) کا جرم نہیں بنتا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی شخص پر تشدد، آتش زنی یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے شواہد موجود ہوں تو اس کے خلاف متعلقہ فوجداری مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں، لیکن صرف حکومت مخالف نعرے بازی کی بنیاد پر کسی پر غداری کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس ونود ایس بھاردواج اور جسٹس سکھوندر کور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ ریمارکس ہریانہ حکومت کی اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دیے، جس میں نچلی عدالت کے چار ملزمان کو بری کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ان افراد پر الزام تھا کہ اگست 2017 میں ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو سزا سنائے جانے کے بعد کیتھل کے علاقے کلایت میں ہونے والے پرتشدد واقعات، آتش زنی اور توڑ پھوڑ میں وہ بھی شامل تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں اور اس کے طرزِ عمل پر تنقید کرنے اور احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا یا نعرے لگانا ہرگز یہ ثابت نہیں کرتا کہ متعلقہ افراد ریاست کے خلاف نفرت پھیلا رہے تھے یا بغاوت پر اکسا رہے تھے۔

بنچ نے کہا کہ اگرچہ کوئی پرتشدد احتجاج فساد کی شکل اختیار کر سکتا ہے، لیکن صرف تشدد کی موجودگی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں غداری یا حکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کی جا رہی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ منتخب جمہوری حکومت والے ملک میں صرف حکومت مخالف نعرے بازی کی بنیاد پر کسی شخص کو غدار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ نظامِ حکومت سے ناراضی یا مایوسی کا اظہار اور ملک کے خلاف نفرت یا بغاوت پر اکسانا دو الگ چیزیں ہیں۔ چونکہ غداری کا الزام نہایت سنگین نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کی سزا بھی سخت ہے، اس لیے عدالتوں پر لازم ہے کہ وہ محض قیاس آرائی یا شبہے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مضبوط اور قابلِ اعتماد شواہد کی بنیاد پر ہی فیصلہ کریں۔

یہ مقدمہ تقریباً نو برس پرانے ان واقعات سے متعلق ہے جو ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو سزا سنائے جانے کے بعد ہریانہ میں پیش آئے تھے۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ کلایت میں بجلی کے دفتر کو نذرِ آتش کرنے والے ہجوم میں یہ چاروں ملزمان بھی شامل تھے، تاہم نچلی عدالت نے ناکافی شواہد اور گواہوں کی عدم موجودگی کے باعث انہیں بری کر دیا تھا۔

ہائی کورٹ نے بھی نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ استغاثہ ملزمان کی شناخت اور ان کے کردار کو ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ عدالت کے مطابق پولیس کوئی ایسا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر سکی جس سے یہ ثابت ہو کہ ملزمان نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے یا دانستہ طور پر بڑے پیمانے پر تشدد بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔