نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں مبینہ ’’شدھی کرن‘‘ کے واقعے کو ’’چھوت چھات کا واقعہ‘‘ قرار دیتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ان کی پارٹی اس معاملے میں راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے بھی رابطہ کرے گی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کھرگے نے سوال کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔
کھرگے نے کہا، ’’وزیر اعظم جی اس معاملے پر خاموش ہیں، کیوں خاموش ہیں؟ اگر وہ دلت ہوتے اور ان کے ساتھ یہ سب ہوتا تو کیا وہ خاموش بیٹھتے؟ امت شاہ بھی خاموش ہیں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ پورا واقعہ عوام کے سامنے ہوا، لیکن حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کھرگے نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے پر مرکزی وزیر جے پی نڈا کو خط لکھا ہے اور ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں وہ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن سے بھی رابطہ کریں گے، کیونکہ انہوں نے خود ایوان میں اس معاملے پر کارروائی کرنے کی بات کہی تھی۔ کھرگے نے کہا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے طلبہ، مہنگائی اور دیگر مسائل کے ساتھ دلتوں کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے، لیکن ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے انہیں حوصلہ شکن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’یہ صرف میرا سوال نہیں ہے، یہ دلت برادری کا سوال ہے۔‘‘ کھرگے نے راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے والوں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی کے لوگ ’’بڑی بڑی باتیں‘‘ کرتے ہیں، لیکن جب کوئی متاثرہ شخص کی آواز اٹھاتا ہے تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ لوگ معاشرے کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
کانگریس صدر نے کہا کہ وہ بی جے پی صدر جے پی نڈا کی جانب سے اپنے خط کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔ کھرگے نے مرکزی وزیر اور راجیہ سبھا میں قائد ایوان جے پی نڈا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو ہدایت دیں کہ ’’شدھی کرن‘‘ کے واقعے میں ملوث افراد اور تنظیموں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانا یقینی بنایا جائے۔
کھرگے نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ 24 دن گزر جانے کے باوجود اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ گزشتہ 8 اگست کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں کھرگے کی جلسہ عام سے خطاب کے بعد کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر جلسہ گاہ کا ’’شدھی کرن‘‘ کیا تھا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ ایسا کرنے والے افراد بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ ہیں، تاہم بی جے پی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔