کالی کٹ:گرانڈ مفتی آف انڈیا شیخ ابوبکر احمد نے آسام اور مغربی بنگال کے وزرائے اعلیٰ کو الگ الگ خطوط ارسال کرتے ہوئے اقلیتوں کو درپیش مختلف مسائل پر گہری تشویش ظاہر کی ہے اور ان معاملات کے فوری اور منصفانہ حل کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے اپنے خطوط میں کہا کہ حکومتوں کو ایسا طرز حکمرانی اختیار کرنا چاہیے جس میں مجموعی ترقی کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنایا جائے۔
شیخ ابوبکر احمد نے آسام میں مجوزہ یونیفارم سول کوڈ اشتعال انگیز سیاسی بیانات اور مغربی بنگال کے مدارس میں وندے ماترم کی لازمی قرأت جیسے معاملات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس امور میں آئینی آزادی بنیادی حقوق اور مذہبی ہم آہنگی کا مکمل احترام ضروری ہے۔
انہوں نے لکھا کہ مختلف مذہبی ثقافتی لسانی اور قبائلی برادریوں پر مشتمل معاشرے میں کسی ایک طبقے کو متاثر کرنے والی قانون سازی سماجی ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
گرانڈ مفتی نے کہا کہ ہر مذہبی اور قبائلی برادری کو نکاح وراثت اور دیگر شخصی معاملات میں اپنے رسم و رواج پر عمل کرنے کا آئینی حق حاصل ہے جس کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔
تعلیمی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن اداروں میں پہلے ہی قومی ترانہ پڑھا جا رہا ہے وہاں طلبہ کو ایسے اضافی نغمے کی لازمی قرأت پر مجبور کرنا جس کے بعض حصے ان کے مذہبی عقائد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں مناسب نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایک سیکولر ملک میں مذہبی معاملات سے متعلق کسی بھی قانون سازی سے قبل مذہبی علما اور متعلقہ طبقات سے مشاورت ضروری ہے۔
شیخ ابوبکر احمد نے خبردار کیا کہ اگر حکومتیں عوامی فلاح کے بجائے ایسے اقدامات پر زور دیں گی جن سے تقسیم بے چینی اور احساس بیگانگی پیدا ہو تو اس سے عوام کا اعتماد متاثر ہوگا۔
انہوں نے دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اقلیتوں خصوصاً مسلم برادری کے تحفظ انصاف اور اعتماد کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور نفرت و تفریق پھیلانے والی طاقتوں کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔