غوث سیوانی،نئی دہلی
اقبال کا نام سنتےہی "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا"نظم کا خیال آتا ہے مگر یہ ان کے نظریہ کا ایک پہلو ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اقبال ایک وسیع الفکر انسان تھے اور انہوں نے ہرقسم کے علمی خزینوں اور بلند پایہ شخصیات کا اعتراف کیاخواہ ان کا کسی بھی مذہب سے تعلق ہو۔علامہ اقبال بنیادی طور پر "شاعرِ اسلام" کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، لیکن ان کی فکری وسعت صرف اسلامی روایات تک محدود نہیں تھی۔ اقبال نے مختلف مذاہب، تہذیبوں اور فلسفیانہ روایتوں کا گہرا مطالعہ کیا اور جہاں کہیں انہیں انسانیت، روحانیت اور حقیقت کی جستجو نظر آئی، وہاں انہوں نے فراخ دلی کے ساتھ اس کا اعتراف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف اسلامی شخصیات بلکہ ہندو، بدھ، سکھ اور ایرانی مذہبی و فلسفیانہ رہنماؤں کو بھی اپنی شاعری اور نثر میں خراجِ تحسین پیش کیا۔اقبال کے ممدوحوں میں آدی شنکر آچاریہ بھی شامل ہیں جنہوں نے ہندوازم کو منظم کرنے کی کوشش کی تھی۔
علاوہ ازیں اقبال نے بھگوان رام، گورو نانک جی اور سوامی رام تیرتھ کے بارے میں نظمیں لکھیں، گوتم بدھ کی تعلیمات کو سراہا، اور اپنی شہرۂ آفاق تصنیف جاوید نامہ میں زرتشت،عیسیٰ مسیح اور گوتم بدھ کا ذکر خیر کیا۔ اسی طرح مثنوی اسرارِ خودی کے دیباچے میں انہوں نے کرشن، آدی شنکرآچاریہ اور رامانج اچاریہ کے افکار پر اظہارِ خیال کیا۔ ان تمام مواقع پر اقبال نے علمی دیانت، کشادہ نظری اور فکری احترام کا مظاہرہ کیا۔ ان کی انگریزی کتابThe Development of Metaphysics in Persia (فلسفہ عجم:ایران میں مابعد الطبیعات کا ارتقا) بھی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ مختلف مذہبی اور فلسفیانہ روایتوں کو سمجھنے اور ان کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
شنکرآچاریہ کا فلسفہ
فی الحال ہم آدی شنکر آچاریہ کے تعلق سے اقبال کے نظریہ کی بات کر رہے ہیں۔اقبال نے شنکرآچاریہ کے فلسفۂ ادویت (عدمِ ثنویت) کو ایک عظیم فکری کارنامہ تسلیم کیا، لیکن وہ اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک شنکرآچاریہ کا نظریۂ وحدتِ مطلق فرد کی انفرادیت کو کمزور کرتا ہے، جبکہ اقبال کا فلسفۂ خودی فرد کی مستقل اور تخلیقی شخصیت پر زور دیتا ہے۔ اسی وجہ سے اقبال، شنکرآچاریہ کی علمی عظمت کے معترف ہیں، مگر فلسفیانہ طور پر ان سے اختلاف بھی رکھتے ہیں۔دوسری طرف وہ ابن عربی کے نظریہ وحدۃ الوجود کومثبت انداز میں دیکھتے ہیں جب کہ بہت سے محققین کو لگتا ہے کہ ابن عربی کے نظریہ وحدۃ الوجود اور شنکر آچاریہ کے فلسفہ ادویت میں بہت حد تک ہم آہنگی ہے۔یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ ابن عربی سے صدیوں پہلے شنکر آچاریہ کا دور تھا۔
.jpg)
شنکرآچاریہ کی سمادھی
شنکرآچاریہ کون تھے؟
آدی شنکرآچاریہ آٹھویں صدی عیسوی کے عظیم ہندوستانی فلسفی اور روحانی مصلح تھے جنہوں نے ادویت ویدانت(Advaita Vedanta) کے فلسفے کو منظم شکل دی۔ ان کے نزدیک کائنات کی اصل حقیقت ایک ہی ہے، جسے برہمن کہا جاتا ہے، اور ظاہری کثرت دراصل ایک عارضی اور غیر حقیقی مظہر ہے۔ شنکرآچاریہ نے اپنی زندگی ہندوستان کے مختلف علاقوں کے سفر، علمی مباحث، فلسفیانہ تصنیفات اور روحانی مراکز کے قیام میں گزاری۔ ان کے سفر کا ایک اہم مرحلہ کشمیر تھا، جو اس زمانے میں سنسکرت علم، مابعد الطبیعات اور روحانی روایتوں کا بڑا مرکز تھا۔کشمیر میں شنکرآچاریہ کی موجودگی آج بھی تاریخی اور روحانی یادگاروں میں محفوظ ہے۔ کشمیر کی سرزمین پہلے ہی شیو تنتر اور بعد ازاں شیوازم کی غیر دوئی روایت کا مرکز تھی۔ شنکرآچاریہ کی آمد نے اس ماحول میں ایک اہم فکری مکالمے کو جنم دیا۔
ادویت ویدانت اور کشمیری شیوازم دونوں غیر دوئی فلسفے ہیں، مگر ان کے زاویۂ نگاہ میں فرق موجود ہے۔ شنکرآچاریہ کے نزدیک برہمن ایک غیر شخصی، بے صفت اور مطلق حقیقت ہے، جبکہ کشمیری شیوازم مطلق حقیقت کو شیو کے طور پر دیکھتا ہے، جو شعور، تخلیق اور اظہار کا سرچشمہ ہے۔
علامہ اقبال نے شنکرآچاریہ کی شخصیت اور فلسفے کو اسی تناظر میں دیکھا۔ اگرچہ اقبال کے فلسفۂ خودی اور اسلامی تصورِ توحید میں فرد کی انفرادی حیثیت، ارادہ اور تخلیقی قوت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، جبکہ شنکرآچاریہ کا فلسفہ فرد اور کائنات کو ایک ہی مطلق حقیقت کا مظہر قرار دیتا ہے، اس کے باوجود اقبال نے شنکرآچاریہ کے فکری کارنامے کا اعتراف کیا۔ وہ انہیں ہندوستان کی عظیم روحانی روایت کے نمائندہ مفکر کے طور پر دیکھتے ہیں جنہوں نے وحدتِ حقیقت کے تصور کو فلسفیانہ بنیاد فراہم کی۔اقبال لکھتے ہیں:
"جس عروس معنی کو سری کرشن اور سری رام، رام نوج بے نقاب کرنا چاہتے تھے سری شنکر کے منطقی طلسم نے اسے محجوب کر دیا اور سری کرشن کی قوم ان کی تجدید کے ثمر سے محروم رہ گئی ۔" دیباچہ اسرارخودی
اقبال کی اس تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شنکرآچاریہ کو ایک منطقی سمجھتے ہیں۔ اقبال کی دوسری تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شنکر آچاریہ کے نظریات کو انتہائی عمیق سمجھتے ہیں۔ اقبال لکھتے ہیں:
جس نکتہ خیال سے سری شنکر نے گیتا کی تفسیر کی ۔ اسی نکتہ خیال سے شیخ محی الدین ابن عربی اندلسی نے قرآن شریف کی تفسیر کی جس نے مسلمانوں کے دل و دماغ پر نہایت گہرا اثر ڈالا ہے۔
دیباچہ اسرارخودی
اصل میں اقبال یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شنکرآچاریہ نے گیتا کی تفسیر کے ذریعہ ادویت یا ہر شے میں خدا کی جلوہ گری کا احساس کرانے کی کوشش کی تھی، ٹھیک اسی طرح بعد کے دور میں ابن عربی نے بھی وحدۃ الوجود کا فلسفہ سمجھانے کی کوشش کی۔ ان دونوں فلسفوں میں جو یکسانیت ہے ،وہ یہ ہے کہ دونوں ہی ذرہ ذرہ میں نورخدا کا نظارہ کرتے ہیں۔
شنکرآچاریہ کا مطالعہ
علامہ اقبال، ابتدا سے شنکر آچاریہ کے فلسفے کا مطالعہ کرتے رہے تھے،اسی کے ساتھ انہوں نے ابن عربی کے فلسفے کو بھی پڑھاتھا۔ محققین کے مطابق ابتدا میں انہیں دونوں کے نظریات بالکل ایک لگتے تھے مگر بعد میں دونوں کے بیچ کا فرق انہوں نے سمجھا۔ اس موضوع پر ایک محقق میکش اکبر آبادی لکھتے ہیں:
"اقبال نے تو آغاز ِ کار میں یہ کہا تھا کہ"تصوف نو افلاطونیت سے متاثر ہے ۔اور ابن عربی اور شنکر اچاریہ متحد الخیال ہیں۔"جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ وحدت الوجود کے سلسلے میں ان تینوں مکاتب کو متحد الخیال سمجھتے تھے، مگر بعد ازاں جب اْنھیں محسوس ہوا کہ شنکر کا فلسفہ نفی خودی پر منتج ہوتا ہے جب کہ شیخ اکبر عالم کو فریبِ نظر نہیں سمجھتا بلکہ اْسے مظہرِ حق قرار دیتے ہیں تو وحدت الوجود کے خلاف اْن کے ردِ عمل میں تبدیلی آگئی۔"
نقد ِ اقبال ، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی ،اشاعت 1964،صفحہ 78

اقبال کے شعر پر صادقین کی ایک خوبصورت پینٹنگ
اقبال شنکرآچاریہ سے کہیں اتفاق رائے ظاہر کرتے ہیں تو کہیں اختلاف کا اظہار بھی کرتے ہیں مگر احترام کے ساتھ۔ اصل میں اقبال کے نزدیک مختلف مذاہب اور فلسفوں کا مطالعہ تعصب کے بجائے تفہیم اور مکالمے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ اسی لیے انہوں نے شنکرآچاریہ سمیت متعدد غیر مسلم مفکرین کا ذکر احترام کے ساتھ کیا۔ ان کے ہاں اصل قدر کسی مخصوص مذہبی شناخت سے زیادہ انسان کی روحانی جستجو، حقیقت کی تلاش اور اخلاقی ارتقا ہے۔ شنکرآچاریہ کی زندگی اور فکر میں انہیں یہی عناصر نمایاں نظر آتے ہیں اور انہوں نے کہیں کہیں شنکرآچاریہ کے خیالات کو اپنی شاعری میں جگہ بھی دیا ہے۔
اقبال نے شنکرآچاریہ کے نکتہ نظر کو اپنے فارسی اشعار میں کس خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے ملاحظہ فرمائیں:
دل بیداروعقل نکتہ بیں خواب
گمان و فکر و تصدیق و یقیں خواب
یعنی دل بیدار اور عقل نکتہ بیں خواب ہیں ۔ گمان، فکر، تصدیق اور یقین سب خواب ہیں ۔
ترا این چشم بیدارے بخواب است
ترا گفتار و کردارے بخواب است
یعنی تیری یہ چشم بیدار خواب میں جاگ رہی ہے ۔ تیری بات چیت تیرا یہ کردار اور عمل وغیرہ سب خواب ہے ۔
چو او بیدار گردد دیگرے نیست
متاع شوق را سوداگرے نیست
یعنی جب وہ (خفتہ خدا) بیدار ہو جائے گا تو اس کے سوا جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے فنا ہو جائے گا، اس وقت اس متاع شوق کا کوئی سوداگر نہیں ہو گا ۔
پروفیسر عبدالحق کے مطابق:
"اقبال نے ایک جگہ لکھا ہے کہ دنیا میں چار اشخاص ایسے ہیں کہ جو بھی ان کے طلسم میں گرفتار ہوجاتا ہے مشکل سے رہائی پاتا ہے اور وہ چاروں ہیں ابن عربی، شنکرآچاریہ، بیدل اور ہیگل۔"
اقبال اور اقبالیات،صفحہ 90،پروفیسرعبدالحق،شائع کردہ اردو اکادمی ، دہلی
اس عبارت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال جن چارشخصیات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں،ان میں سے ایک شنکرآچاریہ بھی ہیں۔ پروفیسرعبدالحق کی نقل کردہ یہ روایت اقبال کے فکری مزاج کو سمجھنے میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔ اقبال نے ابن عربی، آدی شنکر آچاریہ، بیدل اور ہیگل کو ایسے مفکرین قرار دیا جن کے افکار میں ایک غیر معمولی کشش اور سحر آفرینی پائی جاتی ہے۔ آدی شنکر آچاریہ کے حوالے سے یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے، کیونکہ اقبال ان کے فلسفے کے ناقد بھی تھے اور فکری عظمت کے معترف بھی۔
اتفاق اور اختلاف
مجموعی طور پر دیکھیں تو اقبال اور آدی شنکرآچاریہ دو مختلف مذہبی اور فلسفیانہ روایتوں کے نمائندے ہونے کے باوجود ایک مشترک میدان میں ملتے ہیں حقیقتِ مطلق کی تلاش، انسان کی باطنی ترقی اور روحانی شعور کی بیداری۔ اقبال نے جہاں اسلامی فکر کی روشنی میں خودی، حرکت اور تخلیق کا فلسفہ پیش کیا، وہیں شنکرآچاریہ نے وحدتِ وجود اور غیر دوئی حقیقت کی تشریح کی۔ ان دونوں مفکرین کا مطالعہ برصغیر کی فکری تاریخ میں مکالمے، رواداری اور علمی وسعت کا غماز ہے۔