نئی دہلی: ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی کی عدالت نے دہلی پولیس کے اعتراضات کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ پولیس نے کہا کہ والدہ کی سرجری کوئی ہنگامی صورتِ حال نہیں ہے اور عمر خالد کے چچا قریبی رشتہ دار نہیں ہیں۔ عدالت نے پولیس کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ خالد کی بہنیں اور والد ان کی والدہ کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ درخواست میں دی گئی وجوہات مناسب نہیں پائی گئیں، اس لیے درخواست گزار کو مطلوبہ راحت دینا مناسب نہیں ہے۔ چنانچہ درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ عمر خالد کو ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر دہلی فسادات سے متعلق سازش، فساد، غیر قانونی اجتماع اور یو اے پی اے (غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔
دہلی پولیس نے عبوری ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ خالد کے معاملے میں ایسی کوئی غیر معمولی صورتِ حال موجود نہیں جو عبوری ضمانت دینے کی بنیاد بن سکے۔