نئی دہلی:
کانگریس کی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر محسنہ قدوائی کا بدھ کے روز 94 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے، سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی کے دیگر کئی رہنماؤں نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اسے پارٹی اور ملک کے لیے بڑا نقصان قرار دیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق، انہوں نے بدھ کی صبح تقریباً چار بجے نوئیڈا کے ایک اسپتال میں آخری سانس لی۔ وہ کچھ عرصے سے علیل تھیں اور چند دن قبل ہی انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔محسنہ قدوائی کے خاندان میں ان کی تین بیٹیاں ہیں۔ انہیں آج شام پانچ بجے دہلی کے نظام الدین میں واقع قبرستان میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ کانگریس پارٹی کی سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر محترمہ محسنہ قدوائی کے انتقال سے گہرا دکھ ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے چھ دہائیاں ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔
انہوں نے مزید کہا وہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی طویل عرصے تک رکن رہیں اور کئی برسوں تک کانگریس ورکنگ کمیٹی کی بھی رکن رہیں۔ پارٹی کے مشکل ترین دور میں بھی وہ رہنمائی کرتی رہیں۔کھڑگے نے کہا کہ ان کا انتقال کانگریس پارٹی اور ملک کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
راہل گاندھی نے بھی ‘ایکس’ پر لکھا کہ سابق مرکزی وزیر اور سابق رکن پارلیمنٹ محسنہ قدوائی جی کے انتقال کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ وہ کانگریس پارٹی کی نہایت سینئر اور وفادار رہنما تھیں، جن کی پوری زندگی عوامی خدمت کی مثال رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ محسنہ قدوائی نے اپنی سادگی، نرم مزاجی اور باوقار سیاسی سفر سے ملک میں خواتین کی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں میں سوگوار خاندان اور ان کے حامیوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔محسنہ قدوائی، راجیو گاندھی کی قیادت والی حکومت میں صحت، ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی کی وزیر رہ چکی تھیں۔
وہ کئی بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں، کانگریس ورکنگ کمیٹی کی رکن رہیں اور پارٹی تنظیم میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہیں۔ وہ 1960 اور 1970 کی دہائی میں اتر پردیش اسمبلی اور قانون ساز کونسل کی بھی رکن رہیں اور ریاست کی کئی کانگریس حکومتوں میں وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
محسنہ قدوائی کا قومی سیاست میں داخلہ 1978 میں اتر پردیش کے اعظم گڑھ پارلیمانی حلقے کے ضمنی انتخاب میں کامیابی سے ہوا۔ ایمرجنسی کے بعد اور کانگریس کے اقتدار سے باہر ہونے کے دوران اس جیت نے نہ صرف انہیں قومی سیاست میں نمایاں مقام دلایا بلکہ کانگریس پارٹی میں نئی جان بھی ڈال دی۔