نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے عام آدمی پارٹی (آپ) کے رہنما ستیندر جین کی گرفتاری کے بعد بدھ کے روز الزام لگایا کہ اروند کیجریوال کی قیادت والی سابقہ حکومت کے دوران کیے گئے ’گھوٹالے‘ اب سامنے آ رہے ہیں۔ گپتا نے کہا کہ دہلی اسمبلی میں پیش کی گئی کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کی 19 رپورٹوں سے ’آپ‘ حکومت کے دور میں بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے اور تحقیقاتی ایجنسیاں ان معاملات میں کارروائی کر رہی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ ستیندر جین اور دہلی جل بورڈ (ڈی جے بی) کے سابق سی ای او ادت پرکاش رائے ان چھ افراد میں شامل ہیں، جنہیں انسداد بدعنوانی شاخ (اے سی بی) نے جل بورڈ کے واٹر اینڈ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبوں کی ٹینڈرنگ کے عمل میں مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی (آپ) نے جین کی گرفتاری کو آئندہ پنجاب اسمبلی انتخابات سے جوڑتے ہوئے الزام لگایا کہ سیاسی انتقام کے تحت ستیندر جین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جین پنجاب میں ’آپ‘ کے شریک انچارج ہیں۔ ستیندر جین کی گرفتاری کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ایک پروگرام کے بعد صحافیوں سے کہا کہ ان کی حکومت نے دہلی میں ’آپ‘ کی سابقہ حکومت کے ہر گھوٹالے کو بے نقاب کرنے والی 19 سی اے جی رپورٹیں اسمبلی میں پیش کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام سی اے جی رپورٹوں پر کارروائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ گپتا نے کہا، ’’ان (سابق حکومت) کے بوئے ہوئے بیجوں کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔ جین دہلی جل بورڈ میں کیے گئے گھوٹالے کے باعث جیل گئے ہیں۔ کارروائی جاری ہے اور ایجنسیاں اپنا کام کر رہی ہیں۔‘‘