ستیہ نکیتن حادثہ: سپریم کورٹ 10 ستمبر کو کرے گی سماعت

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 08-09-2026
ستیہ نکیتن حادثہ: سپریم کورٹ 10 ستمبر کو کرے گی سماعت
ستیہ نکیتن حادثہ: سپریم کورٹ 10 ستمبر کو کرے گی سماعت

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ وہ دہلی کے ستیٰ نکیتن حادثے سے متعلق معاملات پر 10 ستمبر کو غور کرے گی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر دہلی ہائی کورٹ میں پہلے سے زیر سماعت معاملے کو اپنے پاس منتقل کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی تھی کہ اتوار کو پیش آنے والے اس حادثے پر فوری سماعت کی جائے، جس میں سات طلبہ کی موت ہوگئی تھی۔ اعلیٰ عدالت پہلے ہی ملک بھر میں رہائشی علاقوں میں غیر مجاز تعمیرات، فائر سیفٹی اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی مقامات کو تجارتی استعمال میں تبدیل کرنے جیسے معاملات کی سماعت کر رہی ہے۔

جسٹس احسن الدین امان اللہ اور جسٹس آر مہادیون کی بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ جن معاملات پر غور کر رہی ہے، وہ ’’سنگین‘‘ ہیں اور ان کا تعلق ان معاملات سے بھی ہے جن پر سپریم کورٹ پہلے ہی پورے ملک کے تناظر میں غور کر رہی ہے۔ بنچ نے کہا، ’’ہمارے ذہن میں ایک بات ہے۔ ہم اس معاملے پر پرسوں (10 ستمبر کو) غور کریں گے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔ ہائی کورٹ جن مسائل پر غور کر رہی ہے، وہ اس معاملے سے ملتے جلتے ہیں جس پر یہ عدالت پورے ملک کے تناظر میں غور کر رہی ہے۔‘‘ دہلی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے اس واقعے کو ’’انتہائی بدقسمت‘‘ قرار دیا اور کہا، ’’ہماری ہمدردیاں بچوں اور ان کے والدین کے ساتھ ہیں۔‘‘

انہوں نے سپریم کورٹ کی توجہ اس جانب دلائی کہ دہلی ہائی کورٹ پہلے ہی اس معاملے پر ایک مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کر رہی ہے۔ انہوں نے پیر کو ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم کو بھی عدالت کے ریکارڈ پر پیش کیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے میں عدالتی معاون مقرر کیے گئے سینئر وکیل اجیت سنہا نے ابتدا میں بتایا کہ حالیہ افسوسناک واقعے کے پیش نظر انہوں نے آئی آئی ٹی کے ایک پروفیسر اور دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے افسران کے ساتھ جائے حادثہ کا معائنہ کیا ہے۔

انہوں نے اس سلسلے میں صورتحال سے متعلق رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی۔ سنہا نے عدالت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر فوری سماعت کرے تاکہ ضروری ہدایات جاری کی جا سکیں۔ سپریم کورٹ اس سے قبل بھی رہائشی علاقوں میں غیر مجاز تعمیرات، آگ سے تحفظ اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی مقامات کو تجارتی مقامات میں تبدیل کرنے جیسے معاملات پر حکام کو کئی ہدایات جاری کر چکی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو ستیٰ نکیتن حادثے کی اعلیٰ سطحی ایم سی ڈی تحقیقات کا حکم دیا تھا اور واضح کیا تھا کہ حکومت اپنی ذمہ داری سے بچ نہیں سکتی۔ اتوار کو دوپہر تقریباً 1:30 بجے دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب ستیٰ نکیتن میں پانچ منزلہ عمارت منہدم ہوگئی تھی، جس میں سات طلبہ ہلاک اور پانچ دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

جائے حادثہ پر 27 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والا راحت اور بچاؤ کا آپریشن پیر کو مکمل ہوا۔ متعلقہ عمارت کو لڑکوں کے پیئنگ گیسٹ (PG) رہائش کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ حادثے کے سلسلے میں عمارت کے مالک، اس کی بیوی اور بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ایم سی ڈی کے پانچ افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔