نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے دہلی کے ستیہ نکیتن میں طلبہ کے ہاسٹل کی پانچ منزلہ عمارت منہدم ہونے کے حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے طلبہ کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے اور حادثے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کو محض ایک عمارت کے منہدم ہونے کا حادثہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ ذمہ دار افراد کی جواب دہی طے کی جانی چاہیے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ حادثے میں سات طلبہ کے جاں بحق ہونے اور متعدد دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے جاں بحق طلبہ کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ طلبہ اور ان کے متعلقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
جماعت اسلامی ہند کے ایک وفد نے منگل کو جائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں موجود افراد سے ملاقات کرکے حادثے کی زمینی صورت حال کا جائزہ لیا۔ وفد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی آئی کریم اللہ عتیق الرحمن اور سلمان احمد شامل تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ دورے کے دوران سامنے آنے والی صورتحال اور حاصل ہونے والی معلومات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے نے ایک بار پھر طلبہ کی رہائش گاہوں کی خستہ حالی اور حفاظتی انتظامات کی کمی کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حادثے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور جہاں بھی غفلت ضابطوں کی خلاف ورزی یا انتظامی ناکامی ثابت ہو وہاں ذمہ داروں کے خلاف جواب دہی طے کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی جانیں گنوانے والے طلبہ کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ سانحہ دہلی یونیورسٹی اور اس کے آس پاس رہنے والے طلبہ کے لیے ایک بڑے بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ کالجوں میں ہاسٹل کی سہولتیں ناکافی ہونے کے باعث دہلی میں باہر سے آنے والے ہزاروں طلبہ پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں اور کرائے کے مکانات پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ طلبہ کی رہائش کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے غیر محفوظ عمارتوں اور ناقص رہائشی انتظامات کے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کے لیے مناسب اور سستے ہاسٹل کی سہولتیں فراہم کرنے کے فوری انتظامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ستیہ نکیتن اور دیگر علاقوں میں واقع طلبہ کے ہاسٹلوں اور پیئنگ گیسٹ عمارتوں کی جامع جانچ اور حفاظتی جائزہ بھی بلا تاخیر کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ رہائش کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے کے نام پر حفاظتی معیار ایمرجنسی راستوں عمارتوں کی منظوری اور دیگر ضروری حفاظتی اقدامات پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ طلبہ کی زندگیوں کو ضابطوں کی ناکامی بنیادی سہولتوں کی کمی یا تجارتی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر نے اس سانحے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ اور دیگر افراد کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے جائز خدشات اور مطالبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔ حکومت اور متعلقہ حکام احتجاج کرنے والے طلبہ سے بات چیت کریں ان کے خدشات دور کریں اور ٹھوس اقدامات یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے ذمہ داروں کی جواب دہی طے کرنے کے ساتھ ایسے مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں جن سے مستقبل میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام ہو سکے اور مزید نوجوانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائی جا سکیں۔