سالار جنگ میوزیم، حیدرآباد: عجائبات کی دنیا کا شاہکار میوزیم

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 30-03-2023
سالار جنگ میوزیم، حیدرآباد: عجائبات کی دنیا کا شاہکار میوزیم
سالار جنگ میوزیم، حیدرآباد: عجائبات کی دنیا کا شاہکار میوزیم

 



عبدالرحمن پاشا / حیدرآباد

میوزیم کا آغاز کس طرح ہوا؟ یہ جاننا بڑا دلچسپ ہوگا۔ کرۂ ارض پر انسان روز اول سے ہی کئی چیزوں کو محفوظ رکھتا آ رہا ہے۔ میوزیم ایک ایسی جگہ اور ادارہ ہے، جہاں انسانی تاریخ کے ساتھ ساتھ تہذیب، تمدن اور زمانہ قدیم کے شواہد محفوظ ہیں۔ لفظ ‘‘میوزیم ’’قدیم یونانی لفظ ‘ سے اخذ کیا گیا ہے، جس کے معنی موسیقی کی نشست کے ہے۔ شروع سے ہی لوگ قدیم چیزوں کو جاننے اور اسے اکھٹا کرنے لگے۔ جس کی وجہ سے اس زمانے کے آثار، تہذیب اور سماجی طور طریقے محفوظ رکھے گئے۔ میوزیم کو انسان تاریخ کا حافظہ کہا جاسکتا ہے۔

 آج بھی وقت کے فرعون کی لاش مصر کے سرکاری میوزیم میں ممی کی شکل میں موجود ہے۔ ہندوستان میں جو مشہور میوزیم ہیں؛ ان میں نیشنل میوزیم، نئی دہلی، انڈین میوزیم کولکاتا، کوہیما میوزیم، ناگالینڈ، سب میرین میوزیم وشاکھا پٹنم اور حیدرآباد میں واقع سالار جنگ میوزیم قابل ذکر ہے۔ کولکاتا میں واقع دو سو سال پرانا انڈین میوزیم ہندوستان کا قدیم میوزیم ہے۔ جہاں ملک کے کئی نوادارت کے علاوہ مغلیہ دور کے تاریخی آثار، لباس، برتن، ہتھیار، فوجی ساز و سامان اور پینٹنگس کا بہترین کلکشن ہے۔ جو کہ دیکھنے کے لائق ہے۔

واحد فرد کی کوشش

 حیدر آباد کا سالار جنگ میوزیم واحد فرد کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جسے سالار جنگ سوم میر یوسف علی خان (پ: 4 جون 1889۔ و: 2 مارچ 1949) نے سال 1951 میں قائم کیا تھا۔ جو کہ ہندوستان کے مشہور اور قابل ذکر میوزیم میں سے ایک ہے۔ یہاں کے نوادارت کا نظارہ کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ ہم تاریخ کے مختلف ادوار سے گزر رہے ہیں۔ میوزیم میں جانے کے بعد جہاں ماضی کا نظارہ اور تاریخ سے واقفیت ہوتی ہے، وہیں ہمیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ دنیا کی طاقتور قو میں اور تہذیبیں کیسوں کو کیسے عروج حاصل ہوا اوروہ کیسے زوال کا شکار ہوئیں!

awazurdu

سالار جنگ میوزیم کا تاریخی پس منظر

 دکن کے معروف مورخ علامہ اعجاز فرخ کو تاریخِ دکن کے ذکر میں سند کا درجہ حاصل ہے۔ موصوف ‘مرقع حیدرآباد’ اور‘ حیدرآباد ‘شہر ِنگاراں’ جیسی قابل ذکر کتابوں کے مصنف ہیں۔ علامہ اعجاز فرخ کے مطابق ‘‘سالارجنگ میوزیم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ ایک گھرانے کے جمع کردہ نواردات کی نمائش گاہ ہے، اور یہ اعزاز بجا بھی ہے۔ تاج محل کے تعلق سے یہ بات درست ہے کہ

جب شہنشاہ بھی ہو عشق بھی ہو دولت بھی

تب کہیں جاکے کوئی تاج محل بنتا ہے

 سالارجنگ میوزیم پر بھی یہ بات صادق آتی ہے کہ حیدرآباد میں دولت بہت سارے گھرانوں میں رہی لیکن ذوق، لگاؤ اور دولت کی یکجائی نے یہ کرشمہ دکھلایا کہ تین نسلوں کی کاوش نے اس عجائب گھر کی صورت اختیار کرلی۔ چنانچہ Veiled Rebieca

کا مرمریں اور

Mehestophiles and Margretta

کا چوبی مجسمہ اگر سالار جنگ اول کا انتخاب ہے تو یشب کے بنے ہوئے نواردات میں سے بیشتر نواب میر لائق علی کی پسند ہیں۔ مجموعی اعتبار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ عادل شاہی، قطب شاہی دور سے آصفیہ دور تک کے باقیات کے علاوہ دنیا بھر کے نواردات میں جہاں تک رسائی ہوسکی اس کی حیدرآباد میں یکجائی میں اس خاندان نے کوئی کسر نہیں باقی رکھی۔ سارلاجنگ سوم نے اسے باقاعدہ ایک میوزیم کی شکل دے دی۔ چالیس ہزار سے زیادہ فن کے نوادرات کا متروکہ کوئی معمولی بات نہیں ہے’’۔

awazurdu

 علامہ اعجاز فرخ کے مطابق ‘‘اس کا حقیقی علم عوام کو اس وقت ہوا جب سالار جنگ سوم کے انتقال کے بعد سالارجنگ کمیٹی نے ڈاکٹر کوزن اور جی وینکٹاچلم، ماہر آثار قدیمہ کے تعاون سے اس میوزیم کو ترتیب دیا۔ 16ڈسمبر1951ء کو ہندوستان کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہرلال نہرو نے ایک کثیر اجتماع میں اس میوزیم کا اِفتتاح دیوان دیوڑھی میں کیا۔ اسی زمانے میں کوئی 114 دعویدار سالارجنگ کے متروکہ کیلئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اُن کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ تمام اشیائے متروکہ کے حصہ دار ہیں جس میں میوزیم کی تمام اشیاء بھی شامل ہیں۔

بعد میں ان ورثاء نے متفقہ طور پر حکومت سے مصالحت کرلی۔ چنانچہ 3ڈسمبر1958ء کو عدالت سے جو احکام صادر ہوئے اس کے بموجب تمام ورثاء نے اس سے دستبرداری اختیار کرلی اور یہ تمام اشیاء مرکزی حکومت کی ملکیت قرار پائیں۔ یکم جولائی 1961ء کو میوزیم کا نظم و نسق سالار جنگ میوزیم بورڈ کے حوالے کردیا گیا جس کے صدرنشین ریاستی حکومت کے گورنر قرارپائے اور ایک رُکن سالارجنگ کے افرادِ خاندان سے شامل ہے۔ تاحیات نواب عباس یارجنگ اس کے ڈائرکٹر رہے اور اب نواب احترام علی خاں اس عہدے پر فائز ہیں۔ سالارجنگ کے ورثاء کی جانب سے 5 لاکھ روپئے اور 5 ایکر زمین میوزیم کیلئے عطیہ دی گئی۔ حکومت نے بعد میں مزید 5 ایکر زمین خریدی۔ چنانچہ رودِ موسیٰ کے کنارے سے جہاں کبھی لکڑکوٹ محل ہواکرتا تھا اُس کے احاطے میں اب سالارجنگ میوزیم قائم ہے’’۔

سالارجنگ کا کتب خانہ

 ویسے تو سالار جنگ میوزیم پورا کا پورا عجائب خانہ ہے۔ دنیا بھر کی نایاب و نادر اشیا کی اپنی اہمیت ہے۔ مگر علامہ اعجاز فرخ کا کہنا ہے کہ ‘‘میری نظر میں سالارجنگ کا کتب خانہ ان نوادرات سے زیادہ بیش قیمت ہے۔ ہر خاندان کا کتب خانہ اُس کے علمی ذوق کا مظہر ہوتا ہے۔ سالارجنگ سوم کے زمانے میں یہ کتاب خانہ بہت رئیس ہوچکا تھا اور آج اسے عالمی شہرت حاصل ہے۔ آج اس کتب خانہ میں 56000 سے زیادہ انگریزی کتابیں، تقریباً 22000 عربی، فارسی اور اُردو کتابیں، 8000 سے زیادہ مخطوطات شامل ہیں جو سالارجنگ کی وراثت میں ملی ہوئی خوبصورت الماریوں میں اپنے ظاہری اور باطنی حُسن کا شاہکار بنی ہوئی ہیں’’۔

سالار جنگ کون تھے؟

 سالار جنگ کے احاطے میں ایک بڑا سا کمرہ ‘بانی میوزیم کا کمرہ’ کے نام سے منسوب ہے۔ جس میں سالار جنگ سوم کی تصاویر، ان کی استعمال کردہ اشیا، کتابیں، ڈگریاں اور دیگر نایاب چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ یہاں ایک بڑے سے تختے پر سالار جنگ کے بارے میں لکھا ہوا ہے کہ ‘‘سالار جنگ میوزیم کا نام نواب میریوسف علی خان بہادر المخاطب بہ ‘‘سالار جنگ’’ کے منسوب ہے۔ سالار جنگ نواب صاحب کا خاندانی خطاب تھا۔

آصف جاہی سلاطین نے ‘‘سالار جنگ’’ کا خطاب نہ صرف میر یوسف علی خان کودیا تھا کہ بلکہ آپ کے والد نواب میر لائق علی خان اور داد نواب میر تراب علی خان ‘‘مختار الملک’’ کو بھی عطا کیا تھا۔ اس طراح نواب میر یوسف علی خان ‘‘سالار جنگ سوم ’’ کہلائے۔

یہ تینوں سالار جنگ یکے بعد دیگرے مملکت حیدرآباد کے وزیر اعظم کے عہدے پرفائز ہوئے۔ سالار جنگ کے آباء واجداد عرب کے شہر مدینہ شریف سے ہندوستان آئے جبکہ ننھیالی رشتہ دار ایران کے شہر ‘شوستر’ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے آباء و اجداد میں سے پہلا نام شیخ اویس قرن کا ملتا ہے، جن کا سلسلہ نسب قبیلہ قرن سے تھا اور آپ جنگ صفین میں شہید ہوئے’’۔

 انگلش بریکٹ کلاک اور پردہ ربیکا

 انگلش بریکٹ کلاک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے انگلینڈ میں تیار کیا گیا تھا اور 19ویں صدی کے آخر میں کلکتہ میں فروخت کیا گیا تھا، یہ دو سال سالہ قدیم گھڑی ہے۔ جسے سالار جنگ III نواب میر یوسف علی خان (188-1949) نے کوک اینڈ کیلوے کمپنی سے حاصل کیا تھا۔پردہ ربیکاایک مجسمہ ہے جسے اطالوی نو کلاسیکل مجسمہ سازجیوانی ماریا بینزونی نے تخلیق کیا ہے، جس میں ربیکا کو دکھایا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بینزونی نے اس مجسمے کی چار کاپیاں بنائی تھیں۔ یہ مجسمہ نہایت باریک بینی اور فنی ہنرکاری کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔جو کہ سنگ مرمر سے بنا ہوا ہے۔یہ ، ایک شاندار فنکارانہ تخلیق ہے۔یہ مجسمہ 167.0 سینٹی میٹر کی اونچائی پر کھڑا ہے اور اس کا گول پیڈسٹل بغیر کسی جوڑ کے سنگ مرمر کے ایک بلاک سے تراشا گیا ہے۔ پیڈسٹل پر دائیں پاؤں کے قریب ایک نوشتہ ہے جس میں مجسمہ ساز کا نام، شہر اور سال بتایا گیا ہے۔

سالار جنگ میوزیم کے خاص کمرہ / گیلری

 سالار جنگ میوزیم میں تقریبا 26 الگ الگ گیلریاں ہیں۔ جہاں نایاب و نادر اشیا نظر کو خیرا کردیتی ہے۔ ان گیلریاں میں قابل ذکر یہ ہیں

شعبہ اطفال

ہاتھی دانت کی تراش کاری و نقش نگاری

نقاب پوش ربیکا

موسیقی والی گھڑی

نایاب و نادر عصے والا کمرہ

فوجی ساز و سامان والا کمرہ

ماڈرن انڈین پینٹنگس گیلری

ہندوستانی مورتیوں کی گیلری

ہتھیار اور قدیم و جدید تلواروں کی گیلری

سالار جنگ میوزیم کی پہلی منزل میں دو حصے ہیں۔ جس کی تفصیل یہ ہے:

ویسٹرن بلاک میں یہ چیزیں نمایاں ہیں

مغربی مصور کا کمرہ

یوروپی کانچ کا کمرہ

فرانسیی گیلری

گھڑیوں کا کمرہ

چینی مٹی کا کمرہ

ایسٹرن بلاک میں یہ چیزیں نمایاں ہیں

چائنیز کمرہ

مشرقی بعید کی چینی مٹھی کے ظروف

جاپانی کمرہ

مشرقی مجسمات

سالار جنگ میوزیم کے اوقات و داخلہ فیس

 سالارجنگ میوزیم میں داخلہ فیس 50 روپے فی شخص ہے، جب کہ طلبہ اور سال کے 18 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے یہ مفت ہے۔ طلبہ ٹکٹ مفت داخلہ حاصل کرنے کے لیے شناختی کارڈ پیش کرنا ہوگا۔ اگر کوئی کیمرے یا موبائل فون ساتھ لے جانا چاہتا ہے، تو اسے الگ سے 50 روپیے ادا کرنا ہوگا۔ غیر ملکی سیاحوں کے لیے ٹکٹ کی قیمت 500 روپے فی کس ہے۔ آڈیو ٹور کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ تقریباً 90 منٹ کے اس آڈیو ٹور کی فیس 60 روپے فی شخص ہے، مذکورہ رقم میں کمی زیادتی ہوسکتی ہے۔ سالار جنگ میوزیم کے اوقات جمعہ کے علاوہ تمام دنوں میں صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک ہیں۔