نئی دہلی: مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا (ایم ایس او) اور مسلم یوتھ آرگنائزیشن آف انڈیا (ایم وائی او) نے ’’قوم کی تعمیر میں مسلمانوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس میں علما، طلبہ، نوجوان، سماجی کارکنان، ماہرینِ تعلیم، مذہبی اسکالرز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور ہندوستان کی سماجی، قومی اور جمہوری ترقی میں ہندوستانی مسلمانوں کے کردار پر تبادلۂ خیال کیا۔
پریس ریلیز کے مطابق کانفرنس میں ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کی خدمات، تحریک آزادی میں صوفیائے کرام کا کردار، اسلام میں حب الوطنی کا تصور، دہشت گردی کے خلاف اسلامی تعلیمات، صوفیانہ روایت میں ہندوستان کا مقام اور قوم کی تعمیر میں نوجوانوں کی مثبت و تعمیری شرکت جیسے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔ پروگرام میں تقریباً 500 افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز ایم ایس او کے قومی صدر شجاعت علی قادری کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ ملک کے سماجی اور ثقافتی ورثے سے گہرے طور پر وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مسلمان محض سماج کا ایک حصہ نہیں بلکہ قوم کی تعمیر میں برابر کے شریک ہیں۔ ہندوستان صرف وہ جگہ نہیں جہاں ہم رہتے ہیں، بلکہ یہ ہمارا وطن، ہماری مٹی، ہمارا مشترکہ ورثہ اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔
‘‘ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم، سماجی خدمت، قومی یکجہتی اور مثبت سوچ کے ذریعے ملک کی ترقی میں سرگرم کردار ادا کریں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ فارسی کے اسسٹنٹ پروفیسر ارشد القادری نے ’’تحریک آزادی میں صوفیا کا کردار‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے ہندوستانی صوفیا کی جانب سے سماجی اتحاد، بھائی چارے اور انسانی اقدار کو مضبوط بنانے میں دی گئی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تحریک آزادی کے دوران عوامی بیداری پیدا کرنے میں صوفی شخصیات کے کردار کا بھی ذکر کیا۔
راجستھان میں سنی دعوتِ اسلامی کے سربراہ علامہ سید محمد رضوی نے ’’اسلام میں حب الوطنی کا تصور‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملک سے محبت، سماج کے تئیں ذمہ داری اور شہری فرائض کی ادائیگی اسلامی اخلاقی اقدار سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے قومی اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کی اپیل کی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حب الوطنی کا پیغام دیا۔
آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے چیئرمین مفتی اشفاق حسین قادری نے ’’دہشت گردی کے بارے میں اسلامی تعلیمات‘‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ انسانوں کا قتل، تشدد اور دہشت گردی اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ انتہا پسندی اور تشدد پر مبنی نظریات سے دور رہیں اور امن، انسانیت اور بقائے باہمی کے پیغام کو عام کریں۔ ایم ایس او کے نائب چیئرمین مدثر اشرفی نے ’’صوفیا کی نظر میں ہندوستان‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ہندوستانی صوفی روایت میں مشترکہ تہذیب، باہمی احترام، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
پروگرام کی مشترکہ نظامت ایم ایس او کے قومی صدر عارف واحدی اور ماہنامہ کنز الایمان کے مدیر محمد ظفرالدین برکاتی نے کی۔ پریس ریلیز کے مطابق دونوں نے مقررین کے خیالات کو یکجا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان قوم کی تعمیر کے عمل میں مثبت، تعمیری اور بامعنی کردار ادا کریں۔ کانفرنس میں بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوانوں، سماجی کارکنان، ماہرین تعلیم، علما اور مختلف شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کے تنوع، گنگا جمنی تہذیب، مشترکہ ثقافتی ورثے اور روایات کو مضبوط بنانا تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایم ایس او اور ایم وائی او نے کہا کہ وہ آئندہ بھی تعلیم، سماجی ہم آہنگی، قوم کی تعمیر، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ہندوستان کی صوفیانہ روایت کی مثبت اقدار کے فروغ کے لیے ایسے پروگرام منعقد کرتے رہیں گے۔