کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج اور مغربی بنگال وقف بورڈ کے چیئرمین شاہد اللہ منشی نے دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ کی عدالتی جانچ کے بعد ان کا نام حذف کر دیا گیا ہے اور انہوں نے اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیر کے روز "زیرِ غور" ووٹروں کی پہلی ضمنی فہرست جاری ہونے کے بعد یہ بات سامنے آئی۔
جسٹس منشی نے بتایا کہ ان کی اہلیہ اور بڑے بیٹے کے نام اب بھی زیرِ غور ہیں۔ وقف بورڈ کے چیئرمین منشی نے یہ بھی کہا کہ وہ خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کی سماعت کے لیے پیش ہوئے تھے، انہوں نے اپنا پاسپورٹ جمع کرایا تھا اور آدھار اور پین کارڈ بھی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
ریٹائرڈ جج نے کہا کہ ایس آئی آر کے بعد 28 فروری کو شائع ہونے والی ووٹر لسٹ میں ان کے خاندان کے نام "زیرِ غور" کے طور پر درج تھے۔ انہوں نے جمعرات کو کہا، ’’میرا نام پہلی ضمنی فہرست سے ہٹا دیا گیا تھا۔ میں نے پاسپورٹ سمیت تمام ضروری دستاویزات جمع کرائے، لیکن مجھے کوئی رسید نہیں دی گئی۔‘‘
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال نومبر میں شروع ہونے والے ایس آئی آر عمل کے بعد سے ووٹروں کی تعداد کا تقریباً 8.3 فیصد یعنی 63.66 لاکھ نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ووٹروں کی تعداد تقریباً 7.66 کروڑ سے گھٹ کر 7.04 کروڑ سے کچھ زیادہ رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 60.06 لاکھ سے زائد ووٹروں کو "زیرِ غور" کے زمرے میں رکھا گیا ہے، اور عدالتی افسران کی جانب سے جانچ کے ذریعے ان کی اہلیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔
صورتحال کو نہایت تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے ریٹائرڈ جج نے کہا، ’’ابھی تک صرف میرا نام ہٹایا گیا ہے، جبکہ میری بیوی اور بیٹے کے نام اب بھی زیرِ غور ہیں۔ یہ انتہائی توہین آمیز ہے اور ہراسانی کے مترادف ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ فیصلہ کیسے اور کس بنیاد پر لیا گیا۔‘‘ منشی نے کہا کہ وہ جلد ہی ووٹر لسٹ میں اپنا نام بحال کروانے کے لیے اپیلیٹ ٹریبونل میں درخواست دائر کریں گے۔
ریٹائرڈ جج نے بتایا کہ وہ اور ان کی اہلیہ پہلے بوبازار اسمبلی حلقہ کے ووٹر تھے اور بعد میں انٹالی منتقل ہو گئے تھے۔ اس معاملے پر سیاسی تنازع بھی شروع ہو گیا ہے، جس میں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن کے اس اقدام پر تنقید کی ہے۔
ترنمول کے ایک رہنما نے کہا، ’’جب ہائی کورٹ کے ایک سابق جج کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا جاتا ہے تو عام اور محروم شہریوں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘‘ تاہم، الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔