نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ تمام ریاستوں کے لیے ریل اسٹیٹ ریگولیٹر اتھارٹی (ریرا) کے قیام پر دوبارہ غور کرنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ یہ ادارہ داغی بلڈرز کو سہولت فراہم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہا۔ چیف جسٹس سوری کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی کی بنچ نے کہا کہ جن لوگوں کے لیے ريرا بنایا گیا تھا، وہ "مکمل طور پر مایوس اور ناامید" ہیں۔
بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر اس ادارے کو ختم کر دیا جائے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بنچ نے ہماچل پردیش حکومت کو ريرا کے دفتر کو اپنی پسند کے مقام پر منتقل کرنے کی اجازت دیتے ہوئے یہ تبصرے کیے۔ ہماچل پردیش حکومت اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر بنچ نے نوٹس جاری کیا تھا، جس میں ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا جو ریاست کے ريرا دفتر کو شملہ سے دھرم شالہ منتقل کرنے سے متعلق تھا۔
ہائی کورٹ نے اس سے قبل ريرا دفتر کی منتقلی سے متعلق جون 2025 کی نوٹیفکیشن پر اگلے حکم تک روک لگا دی تھی۔ بعد میں، 30 دسمبر 2025 کو اپنے حکم میں، ہائی کورٹ نے عبوری حکم کو برقرار رکھنے کی ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے 30 دسمبر کے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا، "داغی بلڈرز کو سہولت دینے کے علاوہ یہ ادارہ (ریرا) کچھ نہیں کر رہا۔ بہتر ہوگا کہ اس ادارے کو ختم کر دیا جائے، ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے... اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ریاستیں اس اتھارٹی کے قیام پر دوبارہ غور کریں۔
ریاستی حکومت نے وکیل سگندھا آنند کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں کہا کہ ہماچل پردیش ريرا دفتر کو شملہ سے دھرم شالہ منتقل کرنے کا فیصلہ شملہ شہر میں بھیڑ بھاڑ کم کرنے کے لیے کیا گیا تھا، اور یہ مکمل طور پر انتظامی وجوہات پر مبنی تھا۔
جواب دہندگان کی طرف سے پیش ایک وکیل نے کہا کہ یہ ادارہ جن منصوبوں سے متعلق معاملات دیکھتا ہے، ان میں سے 90 فیصد شملہ، سولن، پرواں اور سرماؤر میں ہیں، جو زیادہ سے زیادہ 40 کلومیٹر کے دائرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ريرا کے سامنے زیر التواء شکایات میں سے تقریباً 92 فیصد انہی اضلاع سے ہیں، اور دھرم شالہ میں صرف 20 منصوبے ہیں۔