مدرسہ بورڈ کی جگہ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کا قیام خوش آئند قدم ہے: مفتی شمعون قاسمی

Story by  منصورالدین فریدی | Posted by  [email protected] | Date 10-07-2026
مدرسہ بورڈ کی جگہ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کا قیام خوش آئند قدم ہے: مفتی شمعون قاسمی
مدرسہ بورڈ کی جگہ اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کا قیام خوش آئند قدم ہے: مفتی شمعون قاسمی

 



دہرادون:اترا کھنڈ میں مدرسہ بورڈ کو ختم کرکے اقلیتی تعلیمی اتھارٹی قائم کرنے کا مقصد اقلیتی طلبہ کو مرکزی دھارے کی معیاری تعلیم سے جوڑنا ہے۔ اس اقدام سے مدارس کے طلبہ کو سرکاری بورڈ کے مساوی تعلیمی اسناد حاصل ہوں گی، جس سے ان کے لیے اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی حکومتوں نے مسلمانوں کے خلاف کوئی امتیازی قدم نہیں اٹھایا، بلکہ مختلف سرکاری فلاحی اسکیموں میں بغیر کسی تفریق کے مسلمانوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔  
اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین مفتی شمون قاسمی نے ریاستی حکومت کے مختلف فیصلوں، بالخصوص مدرسہ بورڈ کے خاتمے، اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کے قیام، یکساں سول کوڈ (UCC)، تین طلاق، حلالہ، سڑکوں پر نماز اور مسلم سماج کی تعلیم و ترقی جیسے اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا

ہر شہری کا احترام 

 وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ریاست کے ہر شہری کی بات سن کر یہ ثابت کیا ہے کہ ایک جمہوری حکومت اپنے تمام شہریوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے۔ مدرسہ بورڈ کو ختم کرنے کے بجائے اس کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی ہے اور اسے اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کی شکل دے کر سکھ، مسلم، عیسائی، بدھ، جین اور دیگر اقلیتی برادریوں کے بچوں کے لیے بھی تعلیمی مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔

مفتی شمعون قاسمی نے کہا کہ یہ فیصلہ مستقبل میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور تاریخ اسے مثبت انداز میں یاد رکھے گی۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اقلیتی برادریوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر نہیں بلکہ ریاست کے مساوی شہری سمجھتے ہوئے یہ اقدام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے لیکن موجودہ حکومت نے انہیں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں غریب خاندانوں کے بچے مستقبل میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی اے ایس، آئی پی ایس اور دیگر اعلیٰ شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکیں گے۔

تین طلاق اور حلالہ پر مؤقف
مفتی شمون قاسمی نے کہا کہ ایک ہی وقت میں تین طلاق دینا اسلامی تعلیمات کے مطابق درست طریقہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق قرآن میں طلاق کا ایک مرحلہ وار طریقہ بیان کیا گیا ہے، جس میں صلح کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض حلقوں نے حلالہ کے تصور کو غلط انداز میں پیش کیا اور اس کا ناجائز استعمال کیا، حالانکہ اسلام میں اس کی موجودہ رائج شکل کی کوئی گنجائش نہیں۔
یکساں سول کوڈ پر اظہارِ خیال
انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ میں نافذ کیے گئے یکساں سول کوڈ کا اسلام سے کوئی تصادم نہیں ہے۔ ان کے مطابق ایک سے زیادہ شادی اسلام کا لازمی حکم نہیں بلکہ مخصوص حالات سے مشروط اجازت ہے، اس لیے اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
مدارس، تعلیم اور شفافیت
مفتی قاسمی نے بتایا کہ حکومت کی جانچ کے دوران مدارس میں طلبہ کے اندراج سے متعلق بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق اگر کسی ادارے نے فرضی طلبہ کے نام پر سرکاری سہولیات یا اسکالرشپ حاصل کی ہیں تو ایسے معاملات میں رقم کی واپسی اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔انہوں نے زور دیا کہ دینی تعلیم اپنی جگہ اہم ہے، تاہم جدید اور معیاری تعلیم بھی مسلم نوجوانوں کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے تاکہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی اے ایس اور دیگر اعلیٰ شعبوں میں آگے بڑھ سکیں۔
 
سڑکوں پر نماز اور سماجی ہم آہنگی
سڑکوں پر نماز کے معاملے پر مفتی شمون قاسمی نے کہا کہ اگر کسی مسجد میں جگہ کم ہو تو مختلف اوقات میں متعدد جماعتیں قائم کی جا سکتی ہیں، اس لیے عوامی سڑکوں پر نماز ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن، محبت، رواداری اور قانون کی پاسداری کی تعلیم دیتا ہے۔انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ فاصلے کم کریں، تعلیم پر توجہ دیں اور معاشرے میں باہمی اعتماد اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔انٹرویو کے دوران مفتی شمون قاسمی نے مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی موضوعات پر اپنی آرا کا اظہار کیا، تاہم ان کے خیالات ان کی ذاتی رائے ہیں اور ان پر مختلف حلقوں کی آرا مختلف ہو سکتی ہیں۔