نئی دہلی: علم و فکر کی دنیا آج ایک درخشاں ستارے سے محروم ہو گئی۔ معروف دانشور مفکر اور انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے بانی ڈاکٹر محمد منظور عالم منگل کی صبح دہلی میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی عمر 78 برس تھی۔ ان کے انتقال کی خبر نے اہل علم اہل دل اور اہل نظر کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
ڈاکٹر منظور طویل عرصہ سے بیمار تھے اور ذیابطیس کے علاوہ عمر سے متعلق کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ان کے انتقال سے ملت کے لئے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔
انہوں نے ملت کے مسائل حل کرنے کے لئے قاضی مجاہد الاسلام کے ساتھ ملی کونسل بھی قائم کی تھی جو اس وقت نمایاں مسلم تنظیموں میں سے ایک تھی۔ اس تنظیم کے توسط سے متعدد پروگرام کا انعقاد کیا گیا اور مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی-
ڈاکٹر محمد منظور عالم ایک صاحبِ بصیرت عالم، عالمی سطح کے مفکر اور رہنما تھے جو تعلیم، سماجی انصاف اور پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے عمر بھر بے مثال جدوجہد کرتے رہے۔ڈاکٹر محمد منظور عالم محض ایک نام نہیں تھے بلکہ ایک فکر ایک روایت اور ایک مسلسل جدوجہد کا استعارہ تھے۔ وہ ان گنے چنے لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے علم کو کتابوں کے بند اوراق سے نکال کر سماج کی نبض سے جوڑا۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ تعلیم سماجی انصاف اور محروم انسانوں کی آواز بننے میں صرف ہوا۔ وہ ایسے رہنما تھے جن کے نزدیک فکر کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ خدمت تھا۔
پیدائش اور تعلیم
9 اکتوبر 1945 کو بہار کی سرزمین پر جنم لینے والے ڈاکٹر عالم نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی حاصل کی۔ علی گڑھ کی فکری فضا نے ان کے شعور کو جلا بخشی اور یہی وہ دور تھا جب ان کے ذہن میں اسلامی سماجی علوم اور عادلانہ معاشی نظام کے خدوخال واضح ہونے لگے۔ یہی فکری بنیاد بعد میں ان کی پوری زندگی کا سرمایہ بنی۔
ان کا علمی سفر سرحدوں کا پابند نہ تھا۔ ریاض کی امام محمد بن سعود یونیورسٹی ہو یا مدینہ منورہ کا کنگ فہد پرنٹنگ کمپلیکس ہر جگہ ان کی علمی بصیرت کے چرچے رہے۔ ملائیشیا کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ہندوستان کی نمائندگی ہو یا اسلامی ترقیاتی بینک کی علمی سرگرمیاں ڈاکٹر عالم ہر محاذ پر وقار اور دانائی کے ساتھ نظر آئے۔ سعودی عرب کی وزارت خزانہ میں ان کی خدمات اس بات کی گواہ ہیں کہ ان کی فکر محض نظری نہیں بلکہ عملی بھی تھی۔
آئی او ایس کا قیام
انہوں نے 1986میں سعودی عرب سے واپسی کے بعد مشہور تھنک ٹینک تنظیم انسٹی ٹیوٹ آف ابجکیٹیو اسٹیڈیز (آئی او ایس) قائم کی۔ جس نے قلیل عرصے میں ملکی اور بین الاقوامی سطح شہرت حاصل کی۔اس تنظیم نے تحقیقات کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اوراس کی متعدد مطبوعات سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے- انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کی بنیاد رکھ کر انہوں نے ایک ایسا چراغ روشن کیا جو آج بھی فکری اندھیروں کو چیر رہا ہے۔ یہ ادارہ ان کے خوابوں کی تعبیر تھا جہاں تحقیق اخلاق اور سماجی شعور ایک دوسرے سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔ ان کی قیادت میں یہ ادارہ پسماندہ طبقات کے لیے امید اور شعور کا مرکز بن گیا۔
ان کی قیادت میں، آئی او ایس نے 410 سے زیادہ تحقیقی منصوبے کیے، سینکڑوں جلدیں شائع کیں، متعدد کانفرنسیں منعقد کیں، اور بین المذاہب مکالمے، پالیسی تجزیہ، اور اقلیتی حقوق کی وکالت کو فروغ دیا۔وہ آل انڈیا ملی کونسل (جنرل سکریٹری)، مسلم سوشل سائنسز ایسوسی ایشن (صدر)، فقہ اکیڈمی، اور مختلف بین الاقوامی بورڈز جیسی تنظیموں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔
ایک معتبر فکر
ڈاکٹر محمد منظور عالم کا عالمی فکری حلقوں سے گہرا رشتہ تھا۔ وہ مکالمے کے قائل تھے تصادم کے نہیں۔ ان کی تحریروں اور ملاقاتوں میں وسعت نظر اور احترام انسانیت جھلکتا تھا۔ اسلامی معاشیات بین المذاہب ہم آہنگی اور اقلیتوں کے مسائل پر ان کی فکر آج بھی عالمی سطح پر معتبر سمجھی جاتی ہے۔ ان کی کتاب فائنل ویک اپ کال ایک فکری صدا ہے جو کمزور آوازوں کو قوت عطا کرتی ہے۔وہ ایک عظیم استاد اور شفیق مربی بھی تھے۔ ان کی صحبت میں آنے والے نوجوانوں کو نہ صرف علم ملا بلکہ حوصلہ بھی۔ ان کے شاگردوں کے لیے وہ محض استاد نہیں بلکہ ایک روشن مثال تھے جو عمل اور اخلاق دونوں میں یکساں بلند نظر آتے تھے۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم کی جدائی ایک شخص کی نہیں بلکہ ایک عہد کی جدائی ہے۔ مگر ان کی فکر ان کے ادارے اور ان کے تربیت یافتہ اذہان گواہی دیتے رہیں گے کہ کچھ لوگ رخصت ہو کر بھی باقی رہتے ہیں۔ ان کی زندگی اس سچ کی دلیل ہے کہ علم اگر اخلاق سے جڑ جائے تو وہ تاریخ میں امر ہو جاتا ہے۔
ان کی نماز جنازہ منگل کو مغرب کی نماز کے بعد دہلی کے شاہین باغ علاقے میں ادا کی گئی وہیں سپرد خاک ہوے ۔ پسماندگان میں ان کے بیٹے محمد عالم اور ابراہیم عالم شامل ہیں جو ان کے فکری چراغ کو روشن رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔