پٹنہ، :خدا بخش خاں کی ولادت اور وفات کی مناسبت سے ہر سال اگست کے پہلے ہفتے میں یومِ خدا بخش منایا جاتا ہے۔ اس سال تقریبات کا آغاز خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں نادر اور قیمتی مصور مخطوطات کی خصوصی نمائش سے ہوا۔ اس نمائش میں لائبریری کے منتخب 50 نادر مصور مخطوطات پیش کیے گئے، جنہوں نے علمی، تاریخی اور فنّی ورثے کی ایک دلکش جھلک پیش کی۔نمائش کا افتتاح شری شیام بہاری مینا، آئی اے ایس، ایڈیشنل سکریٹری، حکومت بہار نے کیا۔
اس موقع پر پروفیسر محمد زاہد الحق، ڈائرکٹر، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری نے کہا کہ لائبریری میں محفوظ نادر مخطوطات اور نوادرات ہندستان کی بیش قیمت تہذیبی اور علمی میراث ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں ہندستانی، فارسی، مغلیہ، عرب، ترکی، راجپوت اور تنجور مصوری کے بے مثال نمونے محفوظ ہیں، جو اس ادارے کو عالمی سطح پر ممتاز بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصوری کے اعتبار سے سب سے قدیم نسخہ کتاب التصریف ہے، جو تقریباً 1000 سال پرانا عربی طبی مخطوطہ ہے اور جراحی پر دنیا کی اولین کتابوں میں شمار ہوتا ہے۔
نمائش میں شاہ نامہ کے متعدد مصور نسخوں کے علاوہ ہندو مذہبی ادب کے نادر مصور مخطوطات بھی رکھے گئے، جن میں بروا رامائن (اودھی)، بھگوت پران (برج بھاشا)، بھگوت گیتا (سنسکرت) اور سرِ اکبر شامل ہیں۔ سرِ اکبر اپنشدوں کا فارسی ترجمہ ہے، جسے مغل شہزادے دارا شکوہ نے انجام دیا تھا۔
اس کے علاوہ نمائش میں God and Goddesses (تنجور مصوری)، فتوح الحرمین، خمسۂ نظامی، راگ راگنی، گلستاں، بوستاں، سحر البیان، برزو نامہ، حملہ حیدری، کلیات سعدی، ہفت اورنگ اور کرسی نامہ جیسے نادر اور مصور مخطوطات بھی پیش کیے گئے۔ ان میں سے متعدد نسخے 500 سال یا اس سے بھی زیادہ قدیم ہیں اور آج بھی بہترین حالت میں محفوظ ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شری شیام بہاری مینا نے کہا کہ یہ لائبریری ہماری مشترکہ تہذیبی میراث کی امین ہے، جسے محفوظ رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں علمی و ثقافتی شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور خدا بخش لائبریری اس مقصد میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خدا بخش خاں ایک عظیم انسان تھے اور صرف ایک صاحبِ کردار شخصیت ہی ایسا علمی ادارہ قائم کر سکتی ہے، جہاں علم، انسانیت اور تہذیب کی خوشبو ہر آنے والے کو محسوس ہو۔ انہوں نے کہا کہ لائبریریاں صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں ہوتیں بلکہ مشترکہ تہذیب، قومی یکجہتی، انسان دوستی اور گنگا جمنی ثقافت کی مضبوط علامت بھی ہوتی ہیں۔ جس طرح کتابیں مختلف خیالات کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں، اسی طرح لائبریری کا ماحول بھی انسانوں کے درمیان محبت، احترام اور باہمی ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے۔