نئی دہلی،پٹنہ:ملک کے مختلف حصوں سے چاند دیکھے جانے کی خبریں ملی ہیں جن کی تصدیق اور شہادت شرعی کے بعد مفتیان کرام نے اعلان کیا کہ رمضان المبارک کا آغاز ہوچکا ہے۔دہلی، این سی آر میں موسم ابرآلود ہے لہٰذا یہاں چاند دکھنے کا امکان بالکل نہیں تھا۔ سب سے پہلے بہار اور آسام میں چاند دیکھے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ لہٰذا پہلا روزہ جمعرات (19 فروری) کو رکھا جائے گا۔راجدھانی دہلی میں واقع جامع مسجد کے امام شعبان بخاری نے اعلان کیا ہے کہ چاند دیکھا گیا ہے لہذا اب رمضان کے روزے رکھے جائیں گے۔
امارتِ شرعیہ پھلواری شریف، پٹنہ کے قاضی رضوان ندوی نے کہا کہ مختلف علاقوں سے چاند نظر آنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور ان کی تصدیق کی جا رہی ہے۔امارت شرعیہ نے اپنے لیٹر ہیڈ پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رانچی، لوہر دگا،دربھنگہ، گیا وغیرہ کے علاقوں میں چاند دیکھا گیا ہے لہٰذا رمضان کا آغاز ہوگیا۔
اسی کے ساتھ ادارہ شرعیہ اورنگ آباد اور ملی کونسل بہار نے بھی چاند دیکھے جانے کی تصدیق کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ رمضان کا آغاز ہوچکا ہے۔ ادارہ شرعیہ کے قاضی فیضان سرور مصباحی نے اعلان کیا ہے کہ اورنگ آباد بہار میں مطلع بالکل صاف تھا اور یہاں عام رویت ہوئی ہے۔ملی کونسل کی بہار اکائی کی طرف سے فیضان رضی قاسمی نے اعلان کیا ہے کہ چاند کی تصدیق کے بعد اعلان کیا جاتا ہے کہ رمضان کا آغاز ہوچکا ہے۔
واضح ہوکہ اسلام میں مہینوں کا حساب چاند کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس میں چاند کے گھٹنے اور بڑھنے کو معیار بنایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہر سال رمضان کی تاریخ گریگورین کیلنڈر کے مطابق بدلتی رہتی ہے۔ جس دن چاند نظر آتا ہے، اسی دن سے روزہ رکھا جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں روزہ دار پانچ وقت کی نماز کے علاوہ تراویح کی نماز بھی ادا کرتے ہیں۔ اس بابرکت مہینے میں سحری اور افطار اپنے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ کی جاتی ہے۔
ایک مہینہ کے روزوں کے بعد شوال کی پہلی تاریخ کو عیدالفطر منائی جاتی ہے۔ رمضان کے مکمل روزوں کے بعد آنے والی اس عید کو عیدالفطر کہا جاتا ہے، جسے میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اور پیغامات بھیجتے ہیں۔
رمضان کے دوران فجر کی اذان سے پہلے جو کھانا پینا کیا جاتا ہے اسے سحری کہا جاتا ہے۔ جبکہ سورج غروب ہونے کے بعد روزہ کھولنے کو افطار کہا جاتا ہے۔ رمضان کی ابتدا اسلامی کیلنڈر کے نویں مہینے کے طور پر 622 عیسوی میں مدینہ میں ہوئی تھی۔ اس وقت وہاں شدید گرمی پڑ رہی تھی، اسی لیے اس مہینے کو رمضان کہا جانے لگا۔ عربی زبان میں رمضان کا مطلب شدید گرمی ہے۔ اسی دوران چاند کے گھٹنے بڑھنے کی بنیاد پر اسلامی کیلنڈر ترتیب دیا گیا تھا۔