نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو راجیہ سبھا کے سابق رکن سبرامنیم سوامی کی اُس عرضی پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت ان کی دی گئی عرضی پر فوری فیصلہ کرے اور ’رام سیتو‘ کو قومی یادگار قرار دے۔
جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کی سماعت پر اتفاق کیا اور مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتے میں جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ واضح ہوکہ رام سیتو، جسے انگریزی میں Adam’s Bridge بھی کہا جاتا ہے، ایک قدرتی چونا پتھر کی زنجیر ہے جو ہندوستان کے تمل ناڈو میں پمبن جزیرے (رامیشورم کے قریب) کو سری لنکا کے منّار جزیرے سے جوڑتی ہے۔ یہ تقریباً 30 کلومیٹر طویل سلسلہ ہے جس میں چونے کے پتھروں اور ریت کے ٹیلوں کی قطاریں ہیں۔
ہندو روایت کے مطابق رامائن میں ذکر ہے کہ بھگوان رام کی فوج (وانر سینا) نے لنکا پر چڑھائی کے دوران سمندر پار کرنے کے لیے اسی پُل کو تعمیر کیا تھا تاکہ وہ راون کی قید سے سیتا جی کو آزاد کرا سکیں۔ اسی لیے یہ جگہ ہندوؤں کے لیے مذہبی عقیدت رکھتی ہے اور اسے رام کا پُل کہا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق یہ سلسلہ ہزاروں سال پرانے چونا پتھروں، ریت اور مرجانی ڈھانچوں سے وجود میں آیا ہے۔
کچھ سائنسی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس میں انسانی مداخلت بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کی ترتیب ایک قدرتی رکاوٹ سے زیادہ ایک باقاعدہ پل جیسی دکھائی دیتی ہے۔ رام سیتو کو سیٹھوسمدرم شپنگ کینال پروجیکٹ کی وجہ سے کئی برسوں سے تنازعات کا سامنا ہے۔
حکومت اس علاقے میں بحری راستہ بنانے کے منصوبے پر غور کرتی رہی ہے تاکہ جہازوں کا فاصلہ کم کیا جا سکے، لیکن مذہبی عقیدت اور ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے یہ منصوبہ رکا رہا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر اسے قومی یادگار قرار دے دیا جاتا ہے تو اس علاقے میں کسی قسم کی تعمیراتی سرگرمی محدود یا ممنوع ہو جائے گی۔ یہی مسئلہ سبرامنیم سوامی نے اپنی عرضی میں اٹھایا ہے۔