ایودھیا: رام مندر عطیات میں مبینہ خردبرد کے معاملے میں پولیس کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ مرکزی ملزم رام شنکر یادو عرف ٹنو کی 39 گھنٹے کی پولیس ریمانڈ کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر رات گئے چھاپہ مار کارروائی میں ایک چار پہیہ گاڑی، ایک موٹر سائیکل، سونے کے زیورات، نقد رقم اور اہم مالی دستاویزات برآمد کر لیے گئے۔
پولیس کے مطابق ٹنو یادو اور منیش یادو سے پوچھ گچھ کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر صبح تقریباً تین بجے متعدد مقامات پر چھاپے مارے گئے، جن میں رام جنم بھومی کمپلیکس کے قریب واقع ایک مکان بھی شامل تھا۔ کارروائی کے دوران ایسے اثاثے برآمد کیے گئے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ مندر کے عطیات میں مبینہ خردبرد سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدے گئے تھے۔
پولیس نے شیئر بازار میں سرمایہ کاری سے متعلق دستاویزات، جائیداد کے کاغذات اور سود پر دی گئی رقم کے ریکارڈ بھی ضبط کیے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ طور پر خردبرد کی گئی رقم کو لگژری گاڑیوں، جائیداد اور مختلف مالیاتی سرمایہ کاری میں استعمال کیا گیا۔
اب تک کی کارروائی میں تین چار پہیہ گاڑیاں، جن میں لگژری کاریں بھی شامل ہیں، ایک رائل انفیلڈ بلیٹ موٹر سائیکل، سونے کے زیورات، نقد رقم، جائیداد سے متعلق دستاویزات، شیئر مارکیٹ کے ریکارڈ اور سرمایہ کاری کے کاغذات برآمد کیے جا چکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید اثاثوں کا بھی سراغ ملنے کا امکان ہے۔
اس معاملے میں اب تک آٹھ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ تفتیشی ٹیم مبینہ خردبرد کی مکمل مالی کڑی (منی ٹریل) کا سراغ لگا رہی ہے تاکہ اس سے فائدہ اٹھانے والے دیگر افراد اور اثاثوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے۔ پولیس کے مطابق آئندہ چند روز میں مزید اہم انکشافات اور برآمدگیوں کی توقع ہے۔
رام مندر عطیہ معاملے کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا ہے کہ 27 اپریل سے 5 جون 2026 کے درمیان سی سی ٹی وی فوٹیج میں تقریباً 70 مشتبہ واقعات ریکارڈ ہوئے، جن میں رقم گننے والے بعض ملازمین کو نقدی کی گڈیاں چھپاتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داخلی اور خارجی راستوں پر تلاشی کا مؤثر انتظام نہ ہونا، ذاتی سامان کی مناسب نگرانی نہ ہونا اور مختلف عطیہ بکسوں کی رقم کو ایک ساتھ گننا وہ خامیاں تھیں جن کی وجہ سے یہ مبینہ خردبرد ممکن ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات شروع ہونے سے قبل بعض ملازمین سے تقریباً 78.94 لاکھ روپے برآمد کیے گئے تھے، جبکہ 4 جون کو رقم گننے والے کمرے سے منسلک غسل خانے سے مزید 2.25 لاکھ روپے مبینہ طور پر برآمد ہوئے۔
ایس آئی ٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر رام مندر سے چاندی کی اینٹیں یا دیگر قیمتی نذرانے غائب ہونے کے دعوؤں کی تائید میں ابتدائی طور پر کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔