نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملیکارجن کھڑگے نے جمعرات کو ایوانِ بالا میں کام کی جگہوں پر ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے ایسے معاملات کی مقررہ مدت میں جانچ کرانے کی اپیل کی۔
وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ اڈیشہ میں ایک برادری کے لوگ اپنے بچوں کو دلت آنگن واڑی کارکن کی جانب سے تیار کردہ کھانا کھانے نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی مراکز بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’اس طرح کا امتیاز بچوں کی ترقی کو متاثر کرے گا اور یہ آئین کے آرٹیکل 21 اے کے تحت فراہم کردہ حقِ تعلیم کی بھی خلاف ورزی ہے۔
کھڑگے نے کہا کہ کام کی جگہوں پر ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے واقعات ملک کے مختلف حصوں میں سامنے آتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر بروقت جانچ کی جاتی تو ایسے واقعات کو روکا جا سکتا تھا۔‘‘ انہوں نے مدھیہ پردیش کے ایک واقعے کا بھی حوالہ دیا جہاں چند سال قبل ایک شخص نے مبینہ طور پر ایک قبائلی فرد پر پیشاب کیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال گجرات میں ایک دلت سرکاری افسر نے ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے باعث خودکشی کر لی تھی۔ کھڑگے کے مطابق یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ذات پات پر مبنی امتیاز صرف سماجی اور سیاسی زندگی تک محدود نہیں بلکہ کام کی جگہوں پر بھی موجود ہے۔
اس کا اثر لوگوں کی عزتِ نفس، کیریئر میں ترقی اور ذاتی سلامتی پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے خلاف بھی ذات پات کی بنیاد پر امتیاز آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 17 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ان کی بروقت تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔