راجیہ سبھا چیئرمین نے اپوزیشن کا پیغام امت شاہ تک پہنچانے کو کہا

Story by  PTI | Posted by  [email protected] | Date 06-08-2026
راجیہ سبھا چیئرمین نے اپوزیشن کا پیغام امت شاہ تک پہنچانے کو کہا
راجیہ سبھا چیئرمین نے اپوزیشن کا پیغام امت شاہ تک پہنچانے کو کہا

 



نئی دہلی: راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے جمعرات کو پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو سے کہا کہ وہ اپوزیشن کے ان جذبات کو وزیر داخلہ امت شاہ تک پہنچائیں، جس میں ان کی ایوان میں موجودگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے دوبارہ شروع ہوتے ہی وقفۂ سوالات کے دوران اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے مسلسل خلل پڑتا رہا۔

چیئرمین نے کئی بار احتجاج کرنے والے ارکان سے نعرے بازی بند کرنے اور یقین دلایا کہ انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد چیئرمین نے قائدِ حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کو بولنے کی اجازت دی، تاہم حکومتی اتحاد کے ارکان نے اس پر اعتراض کیا، جس کے باعث حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

کھڑگے نے کہا، "اگر میں قواعد نہ پڑھوں اور اپنی بات نہ رکھوں تو کیا آپ (کرن رجیجو) جو دیں گے، وہی پڑھوں؟ مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں کیا بولوں، کب بولوں اور کیسے بولوں۔" اپوزیشن اپنے اس مطالبے پر قائم رہی کہ وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آکر گزشتہ ماہ نئی دہلی میں نیٹ (NEET) پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس کارروائی کے بارے میں بیان دیں۔ کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن ملک اور اس کے 140 کروڑ عوام سے متعلق حقیقی اور اہم سوالات اٹھا رہی ہے۔

انہوں نے کہا، "ہم وزیر داخلہ اور وزیر اعظم سے ایوان میں آنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ ہم چیئرمین سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ وزیر داخلہ کو ایوان میں آکر بیان دینے کی ہدایت دیں۔ ہم اس موضوع پر بحث کے لیے تیار ہیں۔" انہوں نے یاد دلایا کہ اسی ایوان میں سابق بی جے پی رہنما ارون جیٹلی نے کہا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت میں احتجاج بھی ایک حصہ ہے۔ کھڑگے نے کہا، "لیکن یہاں جب ہم جائز سوالات اٹھا رہے ہیں تو حکومت جواب دینے سے بچ رہی ہے۔" اس پر چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے کرن رجیجو سے کہا کہ وہ اپوزیشن کے جذبات وزیر داخلہ تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا، "میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ کھڑگے جی کی گزارش پر غور کریں۔ انہوں نے وزیر داخلہ کو ایوان میں بلانے کی درخواست کی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ہونے کے ناطے آپ اپوزیشن کے جذبات وزیر داخلہ تک پہنچا سکتے ہیں۔" اس سے قبل اپوزیشن کی نعرے بازی کے باعث صبح 11 بجے شروع ہونے والی کارروائی آدھے گھنٹے کے اندر پہلی بار دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ بعد ازاں کارروائی دوبارہ شروع ہونے پر ہنگامہ جاری رہنے کے سبب ایوان کو پہلے 2:15 بجے تک اور پھر مزید ایک گھنٹے کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔