نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو راجستھان حکومت کو مشورہ دیا کہ ریاست کی جوجری، بانڈی اور لونی ندیوں میں بڑھتی ہوئی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک 20 نکاتی جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے کہا کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ پالی کا بیشتر صنعتی علاقہ ندی کے کنارے واقع ہے، اس لیے طویل مدت میں حکومت کو صنعتوں کو وہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے کہا، "ریاستی حکومت ایک جامع حل پر مبنی منصوبہ پیش کرے۔"
سپریم کورٹ جوجری ندی کی آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کر رہی تھی، جس کے دوران بانڈی اور لونی ندیوں کی آلودگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ سماعت کے دوران راجستھان کے چیف سکریٹری نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت اس مسئلے کی سنگینی سے پوری طرح واقف ہے اور تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد ایک تفصیلی لائحۂ عمل عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ریاست کی ندیوں میں آلودگی روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ چونکہ اس معاملے میں کئی محکمے شامل ہیں، اس لیے چیف سکریٹری افسران کا ایک گروپ تشکیل دیں، جو اعلیٰ سطحی ماحولیاتی نگرانی کمیٹی کے ساتھ مل کر 20 نکاتی منصوبہ تیار کرے۔
بنچ نے مزید کہا کہ راجستھان کی تمام ندیوں کے لیے مستقل نگرانی کا مؤثر نظام بھی قائم کیا جانا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا، "ہمارا مقصد صنعتوں سے وابستہ روزگار ختم کرنا نہیں، لیکن روزگار ماحولیات کی قیمت پر نہیں ہو سکتا۔" سپریم کورٹ اس معاملے میں 7 اگست کو اپنا حکم جاری کرے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں سپریم کورٹ نے آلودگی کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی، اصلاحی اقدامات کی نگرانی اور طویل مدتی تجاویز دینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ماحولیاتی نگرانی کمیٹی تشکیل دی تھی۔