جئے پور: راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے بدھ کو کہا کہ ترقی کے نام پر کھیزڑی کے ہزاروں درختوں کی کٹائی "افسوسناک" ہے اور ریاست حکومت کو چاہیے کہ وہ "ضدی رویہ ترک کر کے" اس معاملے پر احتجاج کرنے والے لوگوں سے بات چیت کرے۔
بیکانیر میں کھیزڑی بچاؤ تحریک کا مہاپڑاو بدھ کو تیسرے دن میں داخل ہو گیا۔ بشنوئی دھرم شالا کے سامنے لگائے گئے پینڈال میں کئی ماحول دوست اعامرانہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ یہ احتجاج کرنے والے لوگ ریاستی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ موجودہ اسمبلی سیشن میں ہی درختوں کے تحفظ کا بل لایا جائے اور خیزڑی کے درختوں کی کٹائی پر ریاست میں مکمل پابندی لگائی جائے۔
گہلوت نے کہا کہ راجستھان کی پہچان اور بشنوئی سماج سمیت تمام صوبے کے لوگوں کی عقیدت کا نشان "خیزڑی" بچانے کے لیے بیکانیر میں جاری تحریک اب عوامی تحریک کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کے نام پر خیزڑی کے ہزاروں درختوں کی کٹائی انتہائی افسوسناک ہے۔ گہلوت نے کہا کہ امرتا دیوی بشنوئی سمیت تمام 363 شہداء کی میراث کو بچانے کے لیے آج بھی سنت اور ماحول دوست بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
سابق وزیر اعلیٰ نے ریاستی حکومت سے اپیل کی کہ وہ تحریک کرنے والوں سے بات چیت کرے۔ انہوں نے کہا، حکومت کو اپنی ضد چھوڑ کر فوری طور پر مظاہرین سے رابطہ کرنا چاہیے اور 'ٹری پروٹیکشن ایکٹ' کے مطالبے پر مثبت فیصلہ کرنا چاہیے۔ گہلوت نے کہا، ہم ایسے ترقی کو قبول نہیں کر سکتے جو ماحول کی قیمت پر ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تاریک کر دے۔