نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی جمعہ کو 20 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ گن کے چھروں سے زخمی ہونے والے نوجوان کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ اسٹریٹ پر واقع ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) کے دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔
راہل گاندھی 19 سالہ ساحل لوچب، اس کے اہل خانہ اور وکلا کے ساتھ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے پہنچے اور وہاں ڈی سی پی دفتر میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف نے کہا ہے کہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی، وہ وہاں سے نہیں جائیں گے۔
FIR दर्ज करो
— Congress (@INCIndia) August 21, 2026
साहिल को न्याय दो
अमित शाह और दिल्ली पुलिस कितनी भी कोशिश कर लें
छात्रों की आवाज दबाई नहीं जा सकती, न्याय होकर रहेगा ✊ pic.twitter.com/NwmPYOrNkC
کانگریس ذرائع کے مطابق، 14 اگست کو ساحل لوچب اپنے وکلا کے ساتھ دہلی پولیس کے پاس گیا تھا اور تحریری شکایت دی تھی۔ پولیس نے اسے تفتیشی افسر (آئی او) کا فون نمبر دینے سے انکار کر دیا۔ ذرائع نے بتایا، ’’17 اگست کو ای میل اور فون کے ذریعے بھی یہ معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا۔ اس کے باوجود تفتیشی افسر کا نمبر نہیں دیا گیا اور شکایت کی کوئی رسید بھی نہیں دی گئی۔‘‘ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی متاثرہ نوجوان کے ساتھ دہلی پولیس کے پاس پہنچے اور تفتیشی افسر کا نمبر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن ڈی سی پی نے یہ نمبر فراہم نہیں کیا۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک قابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے، اس لیے ایف آئی آر بھی درج کی جانی چاہیے، لیکن دہلی پولیس ایسا نہیں کر رہی ہے۔‘‘ لوچب اور اس کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ دہلی میں طلبہ کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی کارروائی میں پیلٹ گن کے چھروں سے لوچب زخمی ہوا تھا۔ راہل گاندھی نے جولائی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران لوچب کو میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا۔ لوچب کی دائیں آنکھ میں شدید چوٹ آئی تھی اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کی آنکھ کی بینائی بھی جا سکتی ہے۔